ریڈ کراس کے اہلکار کی لاش اسلام آباد منتقل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خلیل ڈیل کو پانچ ماہ قبل طالبان نے کوئٹہ سے تاوان کے لیے اغواء کیا تھا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس کے پروگرام منیجر ڈاکٹر خلیل ڈیل کی لاش پیر کو اسلام آباد منتقل کر دی گئی۔

پولیس کو چار ماہ قبل اغواء کیے جانے والے بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس کے اہلکار کی لاش گذشتہ روز کوئٹہ سے ملی تھی۔

انہیں پانچ ماہ قبل طالبان نے کوئٹہ سے تاوان کے لیے اغواء کیا تھا۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگارایوب ترین کے مطابق ریڈ کراس کا ایک وفد سوموار کو کوئٹہ پہنچا۔

وفد میں شامل ایکے نمائندے نے سول ہسپتال کوئٹہ جا کر پولیس سے ڈاکٹر خلیل ڈیل کی لاش وصول کی۔ اس موقع پر ہسپتال میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

آئی سی آر سی کے نمائندے نے میڈیاسے بات کرنے سے گریز کیا اور لاش وصول کر کے خصوصی طیارے میں اسلام آباد روانہ ہوگئے جہاں سے ڈاکٹرخلیل ڈیل کی لاش کو لندن منتقل کر دیا جائے گا۔

کوئٹہ میں لاش کی پوسٹمارٹم رپورٹ دینے والے ڈاکٹرصفدر حسین کے مطابق مطابق ڈاکٹر خلیل ڈیل کے جسم پر تشدد کے نشانات نہیں تھے۔

پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ڈاکٹرخلیل ڈیل کی لاش کے قریب ملنے والی پرچی پراغواء کاروں کی جانب سے تحریر کیا گیاتھا کہ آئی سی آرسی کی جانب سے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی بناء پر ڈاکٹر خلیل کو قتل کیا گیا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کمیشن بلوچستان کے رہنما ملک ظہور شاہوانی ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر خلیل ڈیل کے قتل سے غیرسرکاری تنظیموں کے کام متاثر ہوں گے۔

دریں اثناء بلوچستان یونیورسٹی اکیڈمک اسٹاف کےصدر کلیم اللہ بڑیچ کا کہنا ہے کہ اغواء برائے تاؤان، لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے اور مذہبی دہشت گردی کے بعد اب ایک سازش کے تحت غیرسرکاری تنظیموں کے افراد کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر خلیل ڈیل کو اس سال پانچ جنور ی کو کوئٹہ سے نامعلوم افراد نے اغواء کیا تھا بعد میں طالبان نے اسکی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ان کی بازیابی کے لیے دس کروڑ روپے تاوان طلب کیا تھی۔

اسی بارے میں