’اڈیالہ سے جدہ کا سفر کس کے فیصلے پر ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میں نے کوئی اخلاقی جرم نہیں کیا اور نہ اس بنا پر سزا ملی تو پھر اخلاقی بنیاد پر کیوں استعفیٰ دوں:وزیراعظم گیلانی

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان میں کوئی ایسا قانون نہیں ہے کہ عدلیہ کسی عوامی نمائندے کو نااہل قرار دے سکے۔

یہ بات انہوں نے پیر کو ریڈیو پاکستان میں ملٹی میڈیا سیل کی افتتاحی تقریب کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پھانسی کی سزا ملنے والے کو بھی اپیل کا حق ہوتا ہے اور انہیں بھی اپیل کا حق حاصل ہے۔ ’مجھے تیس سیکنڈ کی سزا ملی ہے جو گِنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں آئے گی‘۔

اسلام آباد میں نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق وزیراعظم خاصے جارحانہ موڈ میں نظر آئے اور انہوں نے عدلیہ پر تو ہلکے پھلکے انداز میں تنقید کی لیکن مسلم لیگ (ن) اور شریف برادران پر کھل کر نکتہ چینی کی اور کہا کہ وہ اپیل پر فیصلہ آنے تک صبر کریں۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری آٹھ سال جیل میں رہے اور مختلف کیسوں میں عدالتی احکامات پر رہائی کے بعد صدر منتخب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بل کلنٹن کو جب سزا کے طور پر جرمانہ ہوا تو کیا انہوں نے عہدہ چھوڑ دیا تھا؟

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ ’میں نے کوئی اخلاقی جرم نہیں کیا اور نہ اس بنا پر سزا ملی تو پھر اخلاقی بنیاد پر کیوں استعفیٰ دوں؟۔۔۔مجھے آئین کی شق دو سو اڑتالیس کے تحت فرائص منصبی سرانجام دینے کی آزادی حاصل ہے اور آئینی تحفظ حاصل ہے‘۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’میں مسلم لیگ نواز کا نمائندہ نہیں ہوں کہ ان کے کہنے پر آؤں اور جاؤں۔۔ ان ہی کی ایک عدالت ادھر لگی ہے دوسری شریف کورٹس ہیں ۔۔ دو دو عدالتیں تو میرے لیے کام نہ کریں۔۔ نواز شریف نو سال سزا یافتہ رہے یہاں نو سیکنڈ کا صبر نہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ آئینی طور پر کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن شریف کورٹ کا مسئلہ ہے جو رائے ونڈ میں بیٹھ کر تشریح کرتے ہیں۔

وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ مجھے لوگوں کو ملازمت دینے پر سزا ملی۔۔ میں نے بھارت کے شہریوں کو ملازمت نہیں دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جلدی کس بات کی ہے، اپیل مسترد ہوجائے پھر آپ سپیکر کو لکھیں۔ ساتھ انہوں نے شعر پڑھا۔ ’بےخودی بےسبب نہیں غالب۔۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے‘۔

وزیراعظم نے میاں نواز شریف کا نام لیے بغیر کہا کہ اڈیالہ جیل سے جدہ کا طویل سفر کس عدالتی حکم پر ہوا؟ انہوں نے کہا کہ جیل میں انہیں بھی پیشکش ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک اور شعر پڑھا ’صدا تو میرے تعاقب میں بھی آئی تھی۔۔ انا کی بات تھی ورنہ پلٹ گئے ہوتے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر مجھ پر قتل کا الزام ہے تو سزا بھی اس جرم کی دیں۔۔ ایسا نہیں کہ الزام تو دیوانی توہین کا ہو اور سزا فوجداری توہین کی۔۔ پوری دنیا سر پیٹ رہی ہے کہ کیسا فیصلہ آیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف سے تو عمران خان اچھے رہ گئے جنہوں نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد وہ تبصرہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’مسلم لیگ (ن) نے سوچا کہ کہیں عمران خان آگے نہ نکل جائے اس لیے انہوں نے لانگ مارچ کا اعلان کیا۔۔۔وہ تو شارٹ مارچ نہیں کرسکتے‘۔

درین اثناء وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف مسلم لیگ (ن) نے پیر کی شام گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شدید ہنگامہ کیا اور کارروائی چلنے نہیں دی تاہم وہ وزیراعظم کو ایوان بالا سینیٹ سے خطاب کرنے سے روکنے میں ناکام رہے۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ سے خطاب میں اپنی نا اہلی کی نئی سازش کا انکشاف کیا اور اس کے تانے بانے عدالتی حکم، قائم مقام چیف الیکشن کمشنر اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہٹاؤ مہم سے جوڑے۔

انہوں نے بتایا کہ بیسویں آئینی ترمیم کے تحت چیف الیکشن کمشنر حکومت اور حزبِ مخالف کو اتفاق رائے سے مقرر کرنا ہے۔

ان کے بقول وہ کئی روز سے اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان سے نام مانگ رہے تھے اور وہ انہیں نام نہیں دے رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسلم لیگ (ن) کو پتہ تھا کہ عدلیہ وزیرِاعظم کو نا اہل قرار دے گی اور وہ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر سے وزیراعظم کو نکلوا دیں گے۔

انہوں نے میاں نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے جہاں انہیں میثاق جموریت کی خلاف ورزی کے طعنے دیے وہاں متنبہ کیا کہ وہ کبھی انہیں نکال کر خود امیر المؤمنین نہیں بن پائیں گے۔

ان کے بقول اگر وہ نااہل ہو بھی گئے تو نیا وزیراعظم وہی ہوگا جس کے سر پر وہ ہاتھ رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب سے حکومت نے سرائکی صوبے کی بات کی ہے تب سے مسلم لیگ چاہتی ہے کہ ایوان ہی نہ رہیں۔

اسی بارے میں