ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے کی بیوہ قتل

تصویر کے کاپی رائٹ AP

لاہور میں امریکی سی آئی اے کے اہلکار ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونے والے ایک پاکستانی شہری کی بیوہ اور ان کی والدہ کو ان کے گھر میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے دوہرے کا قتل مقدمہ مقتولہ کے باپ شہزاد بٹ کے خلاف درج کر لیا ہے تاہم ملزم ابھی تک مفرور ہے۔

مقتول فیضان حیدر کی بیوہ زہرہ اور ساس کو پیر کو لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤں میں واقع ان کے گھر میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

فیضان حیدر کی ہلاکت گزشتہ برس چھبیس جنوری کو امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کی فائرنگ سے ہوئی۔

نامہ نگار عبادالحق کے مطابق پولیس نے زہرہ اور ان کے ماں نیبلہ کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا ہے۔ مقتول فیضان کی بیوہ اپنی ماں کے ہمراہ کچھ عرصے قبل ہی نئے گھر میں منتقل ہوئی تھیں۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کے اس واقعے میں زہرہ کا سات ماہ کا بچہ محفوظ رہا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ متقولہ کا ملزم باپ شہزاد بٹ اس واقعہ کے بعد سے غائب ہے اور ابھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

ایس پی پی انوسٹی گیشن عبدالرزاق چیمہ نے صحافیوں کو بتایا کہ شہزاد بٹ نے اپنی بیٹی اور بیوی کا قتل کیا ہے۔

ان کے بقول ملزم نے پہلے اپنی بیوی کو کمرے میں فائرنگ کر کے قتل کیا اور اس کے بعد بیٹی کو اس وقت موت کے گھاٹ اتار دیا جب وہ اپنی جان بچانے کے لیے باہر کی طرف بھاگی۔

پولیس کے مطابق شہزاد بٹ کا اپنی بیٹی اور بیوی سے جھگڑا چل رہا کیونکہ متقول فیضان کی ساس نیببلہ اپنی بیوہ بیٹی زہرہ کی دوسری شادی کرانا چاہتی تھی لیکن اس شادی پر فیصان کے سسر یعنی شہزاد بٹ کو اعتراض تھا۔

پولیس انسپکٹر جاوید صدیق نے بی بی سی کو بتایا کہ شہزاد بٹ کے خلاف ان کے بیٹے حیدر علی کی درخواست پر دوہرے قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے دونوں نوجوان فیضان اور فہیم کی بیواگان ہلاک ہوچکی ہیں۔

فہیم کی بیوہ نے گزشتہ برس اپنے شوہر کے قتل کی دیت کی رقم ملنے سے پہلے ہی خودکشی کرلی تھی جبکہ فیضان کی بیوہ زہرہ کو ان کے مقتول شوہر کے قتل کی دیت لگ بھگ تین لاکھ روپے ادا کردی گئی تھی۔