دومئی کے بعد ایک برس

دو مئی کو علی الصبح پاکستانی فوج کی انتہائی مؤقر تربیت گاہ کے بہت ہی نزدیک امریکہ کو مطلوب ترین فرد کی امریکیوں کے ہاتھوں ہلاکت سے واقعات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو شاید ابھی تک جاری ہے۔

اس واقعے پر پورے ملک میں عوامی سطح پر اگر ایک طرف شدید امریکہ مخالف جذبات پیدا ہوئے تو دوسری جانب ملکی سرحدوں کی حفاظت کے حوالے سے پاکستانی افواج کے دعووں اور اسامہ کی موجودگی کے تناظر میں خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس یا آئی ایس آئی کے کردار پر سنگین نوعیت کے شبہات اور سوالات کیے جانے لگے۔

اسی تناظر میں اسامہ کی ہلاکت کے گیارہ روز بعد تیرہ مئی کو فوج کے سربراہ جنرل کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا نے بند کمرے میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کو خصوصی بریفنگ دی جس میں اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ نے استعفیٰ دینے کی بھی پیش کش کی لیکن حکومت نے اسے قبول نہیں کیا۔

اکیس مئی کو خفیہ اداروں نے پشاور سے صوبائی محکمۂ صحت کے ایک اہلکار ڈاکٹر شکیل آفریدی کو گرفتار کرلیا۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے مبینہ طور پر امریکی سی آئی اے کے لیے ٹیکے لگانے کی وہ جعلی مہم چلائی تھی جس کا مقصد اسامہ بن لادن کا ڈی این اے حاصل کرنا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر شکیل آفریدی کی اس مہم کے ذریعے ہی امریکیوں نے اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی کی تصدیق کی تھی۔

اسامہ کی ہلاکت کے ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصے بعد اکیس جون کو حکومت نے اس واقعے کے ذمے داروں کے تعین کے لیے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا جس کو گزشتہ برس کے آخر تک اپنی رپورٹ پیش کرنی تھی لیکن کمیشن ابھی تک ایسا نہیں کرپایا ہے۔

امریکیوں کے ہاتھوں پاکستانی ’خودمختاری کی پامالی‘ پر متفقہ قومی ردعمل کے لیے اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے چار ماہ بعد تیس ستمبر کو ایک کل جماعتی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں فوج کی اہلیت پر کڑی تنقید بھی سامنے آئی اور سابق فوجی صدر جنرل مشرف کے دور میں کی گئی ہر طرح کی زبانی مفاہمت ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

دس اکتوبر کو پاکستانی نژاد امریکی شہری منصور اعجاز نے برطانوی اخبار دی ٹائمز میں ایک کالم میں الزام عائد کیا کہ ان کی وساطت سے امریکی مسلح افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک ملن کو بھیجی گئی ایک یادداشت میں اعلیٰ پاکستانی حکام نے اسامہ کی ہلاکت کے بعد فوج کی جانب سے اقتدار پر قبضے کے منصوبے کے خلاف امریکہ سے مدد مانگی تھی۔ اس انکشاف نے چند روز بعد پاکستانی سیاست میں شدید طوفان برپا کردیا۔

اسی سلسلے میں چوبیس اکتوبرکو آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا نے وزیراعظم کی لاعلمی میں منصور اعجاز سے لندن میں ملاقات کی۔

تیس دسمبر کو سپریم کورٹ نے مبینہ میمو کے معاملے کو قومی سلامتی کے منافی ہونے کی دلیل پر بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ قرار دیا اور اس کی حقیقت جاننے کے لیے ایک عدالتی کمیشن قائم کردیا۔ پاکستان کے عدالتی حلقوں نے قومی سلامتی کو انسانی حقوق کے معاملے سے نتھی کرنے پر خاصی تشویش ظاہر کی۔ بعد میں آرمی چیف جنرل کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل پاشا دونوں نے مبینہ میمو کو حقیقت قرار دیتے ہوئے اسے قومی سلامتی کے لیے حساس معاملہ قرار دیا۔

چھبیس نومبر کو پاکستان کی ایک سرحدی چوکی سلالہ پر امریکی اور نیٹو افواج کے حملے میں چوبیس پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے ایک طرف امریکہ کو دیا گیا جیکب آْباد کا شمسی ہوائی اڈہ خالی کرالیا تو دوسری جانب نیٹو کو رسد کی فراہمی بھی بند کردی جو ابھی تک بحال نہیں کی گئی ہے۔

انتیس مارچ کو خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے غیرحاضری پر ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ملازمت سے برطرف کردیا۔

اسی بارے میں