’پختونوں کی بات نہیں کرتا، نسلی بلوچوں کی آزادی چاہتا ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بلوچ قوم پرست رہنما براہمداغ بگٹی کا کہنا ہے کہ وہ صوبہ بلوچستان کے نسلی بلوچوں کی آزادی پر ہر وقت مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صوبے میں بسنے والے پشتونوں کی بات نہیں کرتے۔

جینیوا میں بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسئلے پر باتوں اور کانفرنسوں کا وقت گزر چکا ہے۔

بلوچ ربپلکن پارٹی کے سربراہ براہمداغ بگٹی آج کل سوئٹزرلینڈ میں مقیم ہیں جہاں انہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست بھی دی ہوئی ہے جس کے ساتھ انہوں نے مسلح جدوجہد سے لاتعلقی کی یقین دہانی پر مبنی تحریر بھی جمع کروائی ہے۔

وہ سنہ دو ہزار چھ میں فوجی آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے بلوچ رہنما نواب اگبر بگٹی کے پوتے ہیں جو بگٹی قبائل کی سرداری کے بھی دعویدار ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں کسی بھی قسم کی عالمی مداخلت قابلِ قبول نہیں ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے حال ہی منعقد کی گئی بلوچستان کانفرنس کے بارے میں سوال پر براہمداغ بگٹی نے کہا کہ اب ان باتوں اور کانفرنسوں کا وقت گزر چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ صوبے بلوچستان میں بسنے والے نسلی بلوچوں کی آزادی پر ہر وقت مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں پشتون بھی بستے ہیں لیکن وہ ان کی بات نہیں کرتے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آزاد بلوچستان کے معاملے پر کئی بلوچ رہنما متفق ہیں لیکن ان میں اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اتحاد نہیں۔

براہمداغ نے کہا کہ ایسے اتحاد کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ روس میں بھی لینن سمیت کئی رہنما انقلاب لانے کے لیے کوشاں تھے اور اگرچہ ان میں سے ایک رہنما کامیاب ہوا لیکن انقلاب سب کے لیے تھا۔

بلوچ رہنما نے کہا کہ بلوچ رہنماؤں اور آزادی کے لیے جدوجہد میں مصروف رہنماؤں میں نفاق کی وجہ پاکستانی فوج اور اس کی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی ہے جو طاقت اور پیسے کا استعمال کر رہی ہے۔

براہمداغ نے بلوچستان میں مسلح جدوجہد میں مصروف تنظیم بلوچ رپبلکن آرمی کی ان کارروائیوں کو درست قرار نہیں دیا جن میں آباد کاروں اور عام لوگوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے تاہم انہوں نے مسلح جدوجہد کرنے والوں کی مذمت کرنے سے گریز کیا۔

بلوچستان کی تقسیم کی بات کرتے ہوئے براہمداغ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں آباد پشتون قوم آزاد بلوچستان کا حصہ نہیں ہوگی اور یہ ان علاقوں پر مشتمل ہوگا جہاں بلوچ آباد ہیں۔

براہمداغ نے کہا کہ فی الحال عالمی سطح پر آزاد بلوچستان کے مقصد کو ٹھوس حمایت حاصل نہیں ہے لیکن امریکہ، برطانیہ اور روس جیسے ممالک میں لابیئنگ کی جا رہی ہے۔

بلوچ رہنما نے کہا کہ امریکی کانگریس میں بلوچستان کا مسئلہ اٹھایا جانا پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے نہیں تھا بلکہ یہ بیرونِ ملک آباد بلوچوں کی اپنی کوششوں کا ثمر ہے۔

خیال رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان میں رواں برس فروری میں ریپبلکن جماعت کے نمائندے ڈینا روباکر نے ایک قرارداد جمع کروائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ بلوچ عوام کو اپنے لیے آزاد ملک کا حق حاصل ہے۔

اس قرارداد کے مطابق بلوچی عوام کو تاریخی طور پر حقِ خود ارادیت حاصل ہے۔ خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین روباکر نے کمیٹی میں بلوچستان کے معاملے پر عوامی سماعت بھی کروائی تھی اور اس پر بھی پاکستان نے شدید تنقید کی تھی۔

براہمداغ بگٹی کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچوں کے لیے بلوچستان سے نیٹو کو رسد کی فراہمی بھی قبول نہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر نیٹو کی رسد کو بلوچستان سے گزرانا ہے تو اس کے لیے بلوچوں کو اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے۔

براہمداغ کا کہنا تھا کہ ترکمانستان، افغانستان یا ایران سے آنے والی گیس پائپ لائن کے بلوچستان سے گزرنے کا فیصلہ بھی بلوچ عوام کریں گے۔

اسی بارے میں