اسلام آباد کی ’سہیلی‘ چل بسی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سری لنکا کی حکومت نے یہ ہتھنی پاکستان کو تحفتہً دی تھی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے چڑیا گھر میں بیمار بیس سالہ ہتھنی ’سہیلی‘ منگل کو چل بسی۔ اسے بچانے کی تمام تر کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔

چڑیا گھر میں منگل کو جب لوگ تفریح کے لیے آئے تو وہاں موجود سہیلی نامی ہتھنی کو نہ دیکھ کر افسردہ ہوگئے۔ ایک خاتون نے کہا کہ ’اس چڑیا گھر میں سب سے بڑی رونق وہ تھی جو اب نہیں رہی۔‘

دو دن قبل ایک ٹانگ میں شدید تکلیف کی وجہ سے یہ ہتھنی زمین پر گر گئی تھی اور کمزوری کے باعث چڑیا گھر کی انتظامیہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود کھڑی نہ ہو سکی۔

سری لنکا کی حکومت نے سن انیس سو بانوے میں یہ ہتھنی پاکستان کو تحفتہً دی تھی۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہتھنی کی یہ حالت بے احتیاطی کی وجہ سے ہوئی ہے۔

چڑیا گھر کے ڈائریکٹر سجاد علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ چڑیا گھر کی انتظامیہ ابھی تک سہیلی کی بیماری کی تشخیص نہیں کر پائی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہتھنی کی نگران ٹیم کے ایک رکن کو معطل کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ شاید کوئی تیز دھار کی چیز یا کیل وغیرہ لگنے سے ہتھنی زخمی ہو گئی لیکن اس کی حالت کے پیشِ نظر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسے کوئی بیماری بھی ہو سکتی ہے۔ اس خدشے کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ کہیں ہتھنی نے کوئی زہریلی چیز نہ کھا لی ہو۔

پیر کو دن بھر چڑیا گھر کی انتظامیہ ایک کرین کے ذریعے ہتھنی کو سہارا دینے کی کوشش کرتی رہی لیکن وہ اٹھ نہ سکی۔ رات گئے تک ادویات کے ذریعے ہتھنی کو بچانے کی کوششیں بار آوار ثابت نہیں ہوئی اور وہ چل بسی۔ اب اس چڑیا گھر میں ایک پچیس سالہ ہاتھی باقی بچا ہے۔