لیاری آپریشن: پولیس پر راکٹ فائر

کراچی آپریشن تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پچھتر فیصد علاقے پر پولیس کا کنٹرول ہے: ایس ایس پی چودھری اسلم

لیاری میں جاری کارروائی کے پانچویں روز بھی لیاری میں پولیس کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور مسلح افراد کی جانب سے وقفے وقفے سے پولیس پر راکٹ برسانے اور دستی بم پھینکے کا سلسلہ جاری رہا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لیاری کے چیل چوک پر موجود پولیس پر پانچ راکٹ پھینکے گئے جس سے کچھ پولیس والوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

گزشتہ رات ڈیڑھ بجے کے قریب لیاری میں پولیس پر کیےگئے راکٹ حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوا تھا۔

لیاری میں گزشتہ رات ہونے والے راکٹ حملے کی ذمہ داری بلوچ ریپبلکن آرمی نے قبول کرلی ہے۔ بی بی سی کوفون کر کے بلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمان سرباز بلوچ نے کہا کہ وہ لیاری میں بلوچوں کے خلاف جاری کارروائی کے خلاف ہیں اور بلوچوں کےتحفظ کے لیے ہر قدم اٹھایا جائے گا۔

یہ پہلی بار ہے کہ لیاری میں جاری کسی کارروائی کے خلاف بلوچ مزاحمت کارروں نے کوئی بیان دیا ہو اور کسی کارروائی کی ذمہ داری قبول کی ہو۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لیاری میں جمعے سے شروع کیے جانے والی کارروائی کے دوران اب تک چھ پولیس اہلکار ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں پانچ سپاہی اور ایک انسپکٹر ہلاک شامل ہیں۔

کارروائی کے سرپرست ایس ایس پی چودھری اسلم نے دعویٰ کیا ہے کہ پچھتر فیصد علاقے پر اب ان کا کنٹرول ہے۔ تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں کی جاسکی۔

دوسری جانب کراچی کے مختلف علاقوں میں آج بھی لیاری میں جاری کارروائی کے خلاف مظاہرہ کیاگیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ لیاری میں آپریشن فوری طور پر بند کیا جائے۔ واضع رہے کہ لیاری میں پانچ روز سے جاری کارروائی کی وجہ سے متاثرہ علاقے میں خوارک اور پانی کی شدید قلت ہے جبکہ بجلی کی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے جس سے بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے۔

پولیس کے اعلٰی حکام کی جانب سے ابھی تک یہ واضع نہیں کیا گیا کہ یہ کارروائی اور کتنے دن جاری رہے گی۔

اسی بارے میں