اسامہ کی موت، سکیورٹی اسٹیبلشمینٹ کو دھچکہ

اسامہ بن لادن تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption ’جب میڈیا میں بہت سوالات اٹھے تو اسٹیبلشمینٹ پیچھے ہٹتی نظر آئی‘

گزشتہ برس دو مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی فورسز کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستان کی سیکورٹی اسٹیبلشمینٹ کی ساکھ کو عالمی اور مقامی طور پر سخت دھچکہ پہنچا لیکن سیاستدان صورتحال کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے۔

اس واقعہ کے بعد فوج اور انٹیلیجنس ایجنسیاں عالمی اور مقامی ذرائع ابلاغ میں جہاں تنقید کی زد میں رہیں وہاں عوامی سطح پر بھی ان کی سبکی بھی ہوئی۔

لیکن اب رفتہ رفتہ جہاں فوج اور ایجنسیاں اپنی ساکھ بحال کر رہی ہیں وہاں چیزوں پر اپنی گرفت بھی مضبوط کر رہی ہیں۔ لیکن اس بارے میں بعض مبصرین کی مختلف رائے ہے۔

سابق ایئر وائس مارشل اور تبصرہ نگار شہزاد چوہدری کہتے ہیں کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ انٹرنیشنل سطح پر جو پاکستان کا امیج تھا اس کو ظاہر ہے کہ تھوڑا سا دھچکہ لگا اور ملٹری نے اپنے آپ کو بیک فوٹ پر ضرور محسوس کیا۔۔ اور مقامی طور پر امیج کو تھوڑا نقصان پہنچا اور اس کو بحال کرتے کرتے کچھ وقت لگ رہا ہے۔‘

لیکن شہزاد چوہدری کہتے ہیں کہ دنیا بھر کے حالات کچھ ایسے ہوگئے ہیں کہ فوج کے لیے اقتدار پر قبضہ کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ ‘آج کل کے دور میں فوجی حکومتوں کو دنیا بھر میں بالکل بھی قبول نہیں کیا جاتا۔یہ فیکٹر ایسا ہے جو ہماری فوج کو بھی بتاتا ہے کہ وہ زمانہ گیا جب فوجیں حکومتوں میں مداخلت کرتی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اسامہ بن لادن کو دو مئی میں ایک امریکی آپریشن میں ہلاک کیا گیا تھا

کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور کراچی میں بحریہ کے مہران بیس پر حملے کے بعد فوجی کی جو سبکی ہوئی اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلی بار منتخب جمہوری حکومت نے فوج کو پارلیمان کے سامنے جوابدہ بنایا اور خارجہ پالیسی کی تشکیل میں اپنا کچھ حصہ بھی حاصل کیا۔

لیکن بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ محض حادثاتی طور پر ہی ممکن ہوسکا ہے اور مستقل بنیاد پر ایسا تب ہی ممکن ہو سکےگا جب سیاستدان ایک دوسرے کی ٹانگیں نہ کھینچیں۔

’سینٹر فار سوِک ایجوکیشن‘ کے سربراہ ظفر اللہ خان کہتے ہیں کہ ‘چیزیں اتنی آسان نہیں کہ ساٹھ سال کی بیماری فوری ختم ہوجائے اور مریض اٹھ کر دوڑنا شروع کردے۔ فوج اور سویلینز کے درمیان طاقت کا توازن قائم ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔‘

لیکن بعض تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ پارلیمان کو بالا دست بنانے کا اچھا موقع سیاستدانوں نے ضائع کیا ہے۔ ایسی ہی کچھ رائے ہے سینیئر اینکر اور تجزیہ کار حامد میر کی بھی ہے۔ ’جب میڈیا میں بہت سارے سوال کیے گئے تو سیکورٹی اسٹیبلشمینٹ پیچھے ہٹتے نظر آ رہی تھی لیکن جب پارلیمان کا مشترکہ اجلاس ہوا (ایبٹ آباد واقعے پر آئی ایس آئی کے سربراہ کی بریفنگ) تو حکومتی اتحاد نے مل جل کر ملٹری اسٹیبلشمینٹ کو محفوظ راستہ دے دیا اور اپوزیشن ہاتھ ملتی رہ گئی اور میرا خیال ہے کہ ہم نے وہ سنہری موقع کھو دیا اور اس کے بعد جو میمو کمیشن ہے اس سے ثابت ہوا کہ آج بھی سیاسی قیادت اور منتخب پارلیمان پر ملٹری اسٹیبلشمینٹ کو برتری حاصل ہے۔‘

حامد میر کا کہنا ہے کہ وہ اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ملٹری اسٹیبلشمینٹ کی مدد سے قیام پذیر تھے۔ تاہم وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ شاید ہی یہ کبھی معلوم ہوسکے کہ اسامہ بن لادن پاکستان کیسے آئے۔ ’ملٹری لیڈرشپ کی طرف سے جو مجھے معلومات ملیں اس میں کہیں پر تضادات تھے اور کہیں کہیں پر ایسا بھی لگا کہ کچھ حاضر سروس جرنیل سیاسی قیادت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن ان نکات کو کمیشن والے نظر انداز کر رہے تھے اور مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا۔ وہ مجھ سے ایسی باتیں کہلوانا چاہتے تھے کہ جن سے انٹیلیجنس اداروں کو کلین چٹ مل جائے۔‘

اس بارے میں ریٹائرڈ ایئر وائس مارشل شہزاد چوہدری کہتے ہیں کہ کمیشن کی رپورٹ کچھ بھی ہو لیکن دنیا کے سامنے کئی برس تک پاکستان کو جوابدہ رہنا پڑے گا کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں کیسے آئے؟

بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاکستان میں آئین کے مطابق تمام اداروں بالخصوص فوج کو پارلیمان کے ماتحت کرنے، انہیں جوابدہ بنانے اور طاقت کا توازن بہتر کرنے میں عدلیہ کا کردار بہت اہم ہے۔ ان کے بقول موجودہ عدلیہ سے یہ توقع ضرور تھی لیکن عدلیہ اور حکومت کی غلط ترجیحات کی وجہ سے وہ غیر ضروری معاملات میں الجھ گئے۔

تجزیہ کار حامد میر کہتے ہیں کہ جنہوں نے ایمرجنسی لگائی، آئین معطل کیا، ججوں کو بچوں سمیت یرغمال بنایا اور ان کے گھروں پر شیلنگ کی انہیں توہین عدالت میں نہیں بلایا جاتا بلکہ وزیراعظم کو سزا دی جاتی ہے جو کہتے ہیں کہ انہیں آئین کا تحفظ کرنے پر سزا ملی ہے۔

اسی بارے میں