’شنواری القاعدہ کے چیف نہیں ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود عبداللہ اعظم بریگیڈ نامی شدت پسند تنظیم نے اپنے ایک ساتھی فرمان شنواری کو پاکستان میں القاعدہ کے چیف مقرر کرنے کی تردید کی ہے۔

تنظیم کے سربراہ ابو ضرار نے بی بی سی کو فون کرکے واضح کیا کہ ان کی تنظیم کا القاعدہ کے ساتھ اچھے خاصے تعلقات ہیں لیکن یہ بات کہ فرمان شنواری کو پاکستان میں القاعدہ کا چیف مقرر کیا ہے بالکل بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ فرمان شنواری ان کی تنظیم کی ایک اہم شخصیت ہے اور وہ امریکہ کے خلاف لڑنے والی تمام تنظیموں کے ساتھ رابطے میں بھی ہے۔ لیکن ان کو القاعدہ کا چیف مقرر نہیں کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ اور ان کے ساتھیوں نے ان تنظیموں کے درمیان نفرت اور لڑائی جیسی صورت حال پیدا کرنے کی بُہت کوشش کی ہے لیکن وہ کامیاب نہیں ہوا۔ ابو ضرار نے اُمید ظاہر کی کہ القاعدہ خود بھی اس بات کی تردید کرےگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم تمام قبائلی علاقوں میں مضبوط اور فعال ہے لیکن ان کی زیادہ تر کارروائیاں خیبر ایجنسی میں سے گُزرنے والی نیٹو سپلائی کے حلاف ہیں اور ان کے جنگجو نیٹو سپلائی کے خلاف کارروائیوں میں دن رات مصروف ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فرمان شنواری کے البدر منصور سے تعلقات تھے لیکن البدر منصور بھی پاکستان میں القاعدہ کے چیف نہیں تھے اور ان کے خلاف بھی یہ پروپیگنڈہ چلا تھا کہ وہ القاعدہ کے چیف ہیں۔

اس سے پہلے تحریک طالبان پاکستان کے ایک کمانڈر نے بتایا کہ یہ بات غلط ہے کہ فرمان شنواری کو القاعدہ کا چیف مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ ہمیشہ قبائلی علاقوں میں اپنے ذمہ دار کو کوئی عرب ہی بنا دیتا ہے۔

اس طرح شمالی وزیرستان میں طالبان کی ایک اور مضبوط تنظیم حافظ گل بہادر کے ایک کمانڈر نے بتایا کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ القاعدہ کسی عام شخص کو القاعدہ کا چیف مقرر کرے۔ انہوں بتایا کہ القاعدہ ایک عالمی تنظیم ہے اور ان کی کارروائیاں صرف پاکستان تک محددو نہیں بلکہ ان کے رابطے پوری دُنیا سے ہیں۔

یاد رہے کہ دو دن پہلے پاکستان کے بعض اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ عبداللہ اعظم بریگیڈ نامی تنظیم کے ایک کمانڈر فرمان شنواری کو پاکستان میں القاعدہ کا چیف مقرر کیا ہے۔ فرمان شنواری کا تعلق خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل سے ہے اور کچھ عرصہ پہلے خیبر ایجنسی میں فوجی کارروائی کے بعد وہ اپنے خاندان سمیت شمالی وزیرستان منتقل ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں