کوئٹہ اور دیگر اضلاع میں مظاہرے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی میں جاری آپریشن کے خلاف بلوچ قوم پرست جماعتوں کی جانب سے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور لیاری میں جاری آپریشن فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی کی اپیل پر بدھ کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں لیاری میں جاری آپریشن کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مشترکہ احتجاجی مظاہرہ کیاگیا ۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹر اسحاق بلوچ، نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر نیاز بلوچ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈوکیٹ، بی این پی کے ضلعی صدر غلام رسول مینگل، بی ایس او (محی الدین )کے سیکرٹری اطلاعات نذیر بلوچ، بی ایس او (بجار )کے مرکزی سیکرٹری جنرل اسلم بلوچ نے خطاب کیا۔

مقررین نے لیاری میں جاری آپریشن کو بلوچ نسل کش پالسیوں کا تسلسل قراردے دیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی کے ہاتھ ماضی میں بھی بلوچوں کے خون سے رنگے تھے اور آج بھی بلوچوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔

بلوچستان میں شروع کیے جانےوالے آپریشن کو لیاری تک وسعت دی گئی ہے۔ گینگ وار، بھتہ خوری اور جرائم پیشہ عناصر کے نام پر بلوچوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ کراچی میں جرائم کی بنیاد نائن زیرو نے رکھی لیکن جنہوں نے کراچی کے امن کو تہہ و بالا کیا۔ سندھی، پشتون اور بلوچوں کی نسل کشی کی ان کےخلاف کوئی آپریشن نہیں کیا جارہا ہے۔

مقررین کے مطابق صدر آصف علی زرداری خود کو بلوچ کہتے ہیں لیکن وہ بلوچ نہیں بلکہ بلوچ کش اور بلوچ دشمن ہیں۔ مقررین نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگرلیاری میں آپریشن بند نہ کیاگیاتو بلوچ قوم پرست جماعتیں بلوچ قومی یکجہتی کو پروان چڑھاتے ہوئے اپنے احتجاج کو وسعت دینے پر مجبور ہوجائینگی۔ طاقت اور بندوق کے زور پر بنگالیوں کے خلاف آپریشن کیاگیا اور ملک کو دو لخت کیاگیا آج بھی ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچوں کو مجبور کیا جا رہا ہے اوربند گلی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح فورسز آپریشن کررہی ہیں، مظلوم اور محکوم بلوچوں کو بندوق کی نوک پر فتح کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بلوچ قوم کو دہشت اور دہشت گردی کی علامت بنا دیاگیا ہے۔ لیکن دہشتگرد بلوچ نہیں بلکہ وہ قوتیں ہیں جنہوں نے کراچی کویرغمال بنا رکھا ہے۔

دوسری جانب بلوچ ری پبلکن پارٹی کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے کراچی کے علاقے لیاری میں جاری آپریشن اور خون ریزی نئی یا انہونی بات نہیں۔ ریاست بلوچ دشمن ہے بلوچ جہاں کہیں بھی آباد ہو ریاست اس سے نہ صرف خوف زدہ ہے بلکہ بلوچ کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی جارحانہ پالیسیوں پر عمل پیرا رہتے ہوئے اس میں تیزی لائی جارہی ہے۔

کراچی کے علاقے لیاری میں آپریشن بلوچستان میں ایک طویل عرصے سے بلوچ دشمن ریاست کی جارحانہ پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ ڈیرہ بگٹی، سوئی، کوہلو، بارکھان، تربت سمیت بلوچستان میں ریاستی ظلم و جبر کا دائرہ لیاری تک پھیلا دیا گیا ہے اور لیاری ریاستی ظلم جبر اور بربریت کی وجہ سے بیروت کا منظر پیش کررہا ہے۔

ترجمان نے بلوچ قومی یکجہتی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ لیاری میں جاری ریاستی ظلم جبر اور بربریت کے خلاف چار مئی کو بلوچستان بھر میں شٹرڈاؤن رہے گا۔

ترجمان نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور انصاف کے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ بلوچ نسل کشی رکوانے کےلیے اپنا فوری اور عملی کردار ادا کرتے ہوئے بلوچ قوم کو ریاستی ظلم و جبر سے نجات دلائیں ۔

اسی بارے میں