اسامہ کی رہائش گاہ اور امریکی جہاز کے پرزے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’یہ امریکی ہیلی کاپٹر کے پرزے ہیں۔ ابھی ملے ہیں مجھے یہاں اس پلاٹ سے۔ آپ کتنے پیسے دیں گے؟‘: مقامی بچے

القاعدہ کے رہنماء اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد کے بلال ٹاون میں رہائش گاہ گزشتہ برس تو دیکھنے کا موقع نہیں ملا تھا لیکن ایک برس گزرنے کے بعد پہلی مرتبہ یہاں آیا۔ پاکستانی فوج نے اس عمارت کے ساتھ جو کچھ کیا وہ تو ٹی وی پر دیکھ چکا تھا لہذا کچھ زیادہ دیکھنے کی امید نہیں تھی۔

وہ تو ملبہ بھی اٹھا کر لے گئے کہ کہیں میرے جیسے کسی پُرتجسس شخص کے ہاتھ کوئی اہم ثبوت نہ لگ جائے۔ سو ایسی بھی کوئی امید دور دور تک نہیں تھی۔

لہذا میں بھی ان صحافیوں میں سے ایک تھا جنہیں وہاں سے کوئی اضافی معلومات ملنے کی کوئی امید نہیں تھی لیکن پھر بھی لائیو ٹی وی اور ریڈیو کی ضرورت کی وجہ سے یہاں آ گئے۔ لیکن ’قابل تحسین‘ وہ پٹھان بچے ہیں جو وہاں ’کچھ نہیں‘ میں کچھ نہ کچھ نکال کر اوپر کی کمائی میں مصروف ہیں۔

درجن بھر یہی بچے گاہکوں کی تلاش میں وہاں خالی پلاٹ کے اردگرد سرگرداں دکھائی دیے۔ وہ ٹافیاں بتاشے نہیں بلکہ بقول ان کے تباہ شدہ امریکی ہیلی کاپٹر کے پرزے اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑے فروخت کر رہے تھے۔

ان میں سات سالہ غلام نبی بھی تھا۔ ایک گندے سے لپٹے ہوئے پلاسٹک کو کھول کر اس نے لوہے کے چند ٹکڑے دیکھائے اور پوچھا خریدنے ہیں؟ میں نے کہا نہیں لیکن کسی اصلی پٹھان تاجر کی طرح نہ صرف وہ بلکہ دو چار اور بچوں نے بھی مجھے گھیرے میں لے لیا۔

’یہ امریکی ہیلی کاپٹر کے پرزے ہیں۔ ابھی ملے ہیں مجھے یہاں اس پلاٹ سے۔ آپ کتنے پیسے دیں گے؟‘

ابھی میں اس سے دریافت ہی کر رہا تھا کہ کیا ضمانت ہے کہ یہ کسی گاڑی کے نہیں بلکہ ہیلی کاپٹر کے ہی ہیں؟ تو ایک دوسرا لڑکا بڑا سا لوہے کا ٹکڑا اٹھا لایا۔ میں نے کہا ارے یہ تو کسی کھمبے کا ٹکڑا ہے کیا امریکی کھمبے بھی ساتھ لائے تھے تو تمام بچوں کے قہقہے نکل گئے۔

میں وہاں موجود دو میں سے ایک نجی ٹی وی کے رپورٹر سے بات کرنے نکل گیا۔ اس صحافی نے جو ایک رات قبل سے وہاں موجود تھا بتایا کہ قریبی مکانات میں سے کچھ لوگ اپنے بچوں سمیت یہاں آئے اور اس مقام پر چند شمعیں جلا کر اپنا پیغام خاموشی سے دے کر جاتے رہے۔

صحافیوں سے انہوں نے کوئی بات کرنا پسند نہیں کی۔ اسی طرح آج صبح ایک مقامی سکول اپنے طلبہ کو لے کر وہاں آیا جن کا کہنا تھا کہ وہ امن کے خواہاں ہیں اور ہر جگہ امن چاہتے ہیں۔

ابھی یہ بات چیت جاری تھی کہ شکار کی تلاش میں بچوں نے مجھے ایک مرتبہ پھر نرغے میں لے لیا۔ ایک بچے نے پوچھا کہ کل جو امریکی ٹی وی والے آئے تھے کیا وہ آج آئیں گے۔ میں نے پوچھا کیوں تو بتایا کہ کل ان کو وہ گیارہ سو روپے کے بےکار پرزے فروخت کر چکا ہے اور انہوں نے آج دوبارہ آنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔ میں محتاط ہوگیا لیکن اتنے چالاک بچے تھے کہ سو روپے میں مجھے وہ دو عجیب و غریب سے ٹکڑے تھمانے میں کامیاب پھر بھی ہوگئے۔

اسی بارے میں