’اڑتالیس گھنٹوں میں ہتھیار پھینک دیں‘

پولیس تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس اب لیاری میں منظم آپریشن کرنے جا رہی ہے

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے لیاری میں مبینہ جرائم پیشہ افراد کو پیشکش کی ہے کہ وہ آئندہ اڑتالیس گھنٹوں کے اندر ہتھیار پھینک دیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہتھیار پھینکے گے انہیں رعایت دی جائیگی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ پولیس یا رینجرز کی کسی چیک پوسٹ کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرسکتے ہیں۔

’اس کے بعد سخت ایکشن لیا جائے گا۔‘

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ کسی بھی گھر سے اگر راکٹ لانچر یا اسلحہ برآمد ہوا تو اس گھر کو آگ لگا دی جائیگی۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ عوام کا سکون اور چین برباد کرے۔

’ فوج کے پاس اس نوعیت کا اسلحہ موجود ہے مگر اس کی وجوہات ہیں۔ ان شرپسندوں کے پاس یہ اسلحہ کہاں سے آیا؟ انہیں کس نے اور کیوں فراہم کیا؟‘

انہوں نے بتایا کہ اس آپریشن میں پولیس نے بائیس ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن میں سے کئی پر قتل اور اقدام قتل کے مقدمات درج ہیں۔ بقول ان کے پولیس نے بغیر انتظامات کے شہد کے چھتوں میں ہاتھ ڈال دیا تھا مگر اب انتظامات کر لیے گئے ہیں۔ ’ملزمان جو وائرلیس یا تھرایا کے ذریعے رابطہ کر رہے ہیں اس کا حکومت کو پتہ ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ لیاری کے منتخب نمائندوں کی درخواست پر موبائیل ٹیلیفون سروس بحال کردی جائیگی، پانی اور بجلی کی بحالی کے لیے حکام کو ہدایات جاری کی جا رہیں ہیں۔

رحمان ملک کا دعویٰ تھا کہ لیاری کے داخلی راستوں کی نگرانی ہوگی، اس سلسلے میں چار ہیلی کاپٹر فضائی نگرانی کریں گے۔ اس علاقے میں چھتیس کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں جن کو پولیس ہیڈ کوارٹر سے جوڑا جائیگا۔

انہوں نے بتایا کہ رینجرز اور پولیس اب ایک منظم ٹارگٹڈ آپریشن کرنے جا رہے ہیں۔ ’میڈیا کو اس سے دور رہنا چاہیے، حکومت خود صحافیوں کی ٹیموں کو دورہ کرانے کے انتظامات کرے گی۔‘

وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ انہیں ایسے نقشے اور کاغذات ملے ہیں جن سے پاکستان کی سالمیت کے خلاف سازشوں کا پتہ چلتا ہے۔

اسی بارے میں