کیا ایبٹ آباد کے لوگ دو مئی کو کبھی بھول پائیں گے

اس میدان میں اسامہ بن لادن کا مکان تھا تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مقامی انتظامیہ نے رات کی تاریکی میں مکان کو مسمار کر دیا تھا اور ملبہ بھی صاف کر دیا گیا۔

دو مئی دو ہزار گیارہ سے قبل جس مکان میں دنیا کے سب سے مطلوب شخص اسامہ بن لادن رہائش پذیر تھے آجکل وہ ایک میدان بنا ہوا ہے اور اب وہاں بچے کرکٹ کھیلتے ہیں۔

گزشتہ برس دو مئی کی رات تقریباً دو سے تین بجے کے درمیان امریکی فوجی ایبٹ آباد پہنچے اور ایک خفیہ کارروائی میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا گیا۔

یہ واقعہ پاکستانی فوج کے افسران کی سب سے بڑی تربیت گاہ کاکول اکیڈمی کے نزدیک شہر کے بلال ٹاؤن میں ہوا تھا، جہاں اسامہ بن لادن ایک بڑے مکان میں رہائش پذیر تھے۔

ایبٹ آباد واقعے کے تقریباً دس ماہ بعد حکومتِ پاکستان نے اسامہ بن لادن کا مکان مسمار کرنے کا فیصلہ کیا اور مقامی انتظامیہ نے رات کی تاریکی میں مکان کو مسمار کر دیا اور ملبے کو بھی صاف کر دیا گیا۔

اب جس جگہ پر مکان یا کمرے تھے اس کی بنیادیں ہی بچی ہیں۔ اب خالی پلاٹ کو پڑوس کے بچے کرکٹ کھیلنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

وہاں پر موجود بچوں کے مطابق بلال ٹاؤن اور آس پاس کے علاقوں میں کرکٹ یا دوسرا کھیل کھیلنے کے لیے کوئی میدان نہیں ہے اس لیے انہوں نے خالی پلاٹ سے فائدہ اٹھا کر کرکٹ کھیلنی شروع کردی۔

بلال ٹاؤن کے رہائشی کے ایک آٹھ سالہ بچے نے بتایا کہ انہیں کھیلنے کے لیے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور جب مقامی انتظامیہ نے اس گھر کو مسمار کر دیا ہے تب سے وہ یہاں کرکٹ کھیلتے ہیں۔

جب اسامہ بن لادن کا مکان اپنی اصل شکل میں تھا تو اس کے چاروں طرف پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار تعینات رہتے تھے لیکن اب ایک بھی پولس اہلکار موجود نہیں ہے۔

میرے علاوہ کچھ اور صحافی بھی اسلام آباد سے اس مکان کو دیکھنے آئے تھے جہاں اسامہ بن لادن نے اپنی زندگی کے آخری چند سال روپوشی میں گزارے تھے۔ تھوڑی دیر بعد کچھ پولیس اہلکار بھی پہنچے ۔

میں نے ایک پولیس اہلکار سے پوچھا کہ اب اتنی پوچھ گچھ کیوں کی جا رہی ہے اب تو معاملہ بھی ختم ہو گیا ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ اوپر سے آرڈر ملے ہیں کہ کسی غیر ملکی صحافی کو یہاں آنے نہ دیا جائے۔

یہی بات میں نے کل بھی نوٹ کی جب ہم گیسٹ ہاؤس میں چیک ان کر رہے تھے تو ریسیپشن والے نے پہلا سوال یہ پوچھا کہ آپ کے ساتھ کوئی غیرملکی تو نہیں ہے۔ کل رات میں تقریباً دس بجے گیسٹ ہاؤس پہنچا تو کچھ پولیس اہلکار گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے افراد کا ریکارڈ اور شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی کی جانچ پڑتال کر رہے تھے۔

پولیس کے زیادہ متحرک ہونے کی وجہ سے اب مقامی لوگ اسامہ بن لادن پر بلکل بات نہیں کرتے ہیں خاص طور پر پولیس یا خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کی موجودگی میں۔

میں نے اسامہ کے مکان پر موجود کچھ لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس کی موجودگی میں انہوں نے انکار کر دیا اور جب تھوڑی دیر بعد پولیس چلی گئی تو چند افراد نے کچھ بات کی۔

مقامی لوگ ابھی بھی اس واقع کی وجہ سے خوفزدہ ہیں لیکن امریکہ کے خلاف ان کا غصہ اپنی شدت پر ہے۔ جب میں نے ایک شخص خالد سے پوچھا کہ اسامہ کے خلاف امریکی آپریشن سے ان کی زندگی کس قدر متاثر ہوئی ہے تو انہوں نے کہا کہ ’زندگی تو کافی متاثر ہوئی ہے لیکن میں نہیں مانتا کہ اسامہ بن لادن یہاں رہائش پذیر تھا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اسامہ بن لادن پاکستان میں ہو ہی نہیں سکتا اور یہ امریکہ کی چال ہے‘۔ ان کی اس بات سے مجھے لگا کہ اسامہ بن لادن پر کھل کر بات کرنے سے مقامی افراد کو اس قدر روکا گیا ہے کہ وہ اب یہ ماننے کو تیار نہیں ہے کہ اسامہ اس علاقے میں رہتے تھے۔

پاکستانی حکام نے اسامہ بن لادن کے گھر کو مسمار کر دیا اور شاید وہ سمجھ رہے ہیں ان کے اقدام سے لوگ دو مئی کے واقعے کو بھول جائیں گے۔

اس واقع کے بارے میں عام لوگوں کے دل میں بیٹھا ہوا خوف تو آہستہ آہستہ ختم ہوگا لیکن پاکستان کی تاریخ میں اسامہ بن لادن کا نام ایبٹ آباد کے اس علاقے سے ہمیشہ کے لیے جڑ گیا ہے۔

اسی بارے میں