جمعہ تک لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کی مہلت

لاپتہ افراد کے لیے ریلی فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچستان ایک قبائلی معاشرہ ہے لیکن اب حالات اس نہج تک آگئے ہیں کہ خواتین کو احتجاج کے لیےگھر کی چہار دیواری سے باہر نکل کر آنا پڑ رہا ہے: عدالت

سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے خفیہ اداروں کے عدم تعاون اور وزیر اعلٰی بلوچستان کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس ڈی آئی جی فرنٹیئرکور بلوچستان کو (جمعہ) تک لاپتہ افراد کو پیش کرنے کی مہلت دی ہے ۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بلوچستان میں امن و امان اور لاپتہ افراد سے متعلق مقدمہ کی سماعت جمعرات کو بھی جاری رہی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سماعت شروع کی تو عدالت میں موجود لاپتہ افراد کے لواحقین عدالت میں رو پڑے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان لواحقین کو صبر اس وقت آئے گا جب ان کے پیارے گھروں تک پہنچ جائیں گے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیئے کہ کسی نے ہمیں جرات کر کے یہ نہیں بتایا کہ جو لوگ بازیاب ہوئے وہ کہاں سے ملے، خفیہ ادارے رپورٹ دے رہے ہیں کہ لاپتہ افراد ان کے پاس نہیں تو کیا پولیس اور لیویز کے پاس ہیں؟

اس موقع پر سیکریٹری داخلہ نے بیان دیا کہ ہمارے پاس لاپتہ ہونے والے اکثر افراد کی رپورٹ نہیں ہے، ایف آئی آر درج کر کے ہی لاپتہ افراد کی تلاش کریں گے جس پر چیف جسٹس نے سیکریٹری داخلہ سے کہا کہ آپ جائیں اور لاپتہ افراد کو ڈھونڈ کر لائیں۔

سماعت کے دوران جسٹس عارف خلجی نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا طریقہ نکالا جائے کہ لاپتہ افراد کی وباء ختم ہو سکے جس پر ڈی آئی جی ایف سی نے موقف اختیار کیا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ جلد ہی لاپتہ افراد اپنے گھروں کو پہنچ جائیں گے

ڈی آئی جی ایف سی بریگیڈیئر شہزاد سے جسٹس خلجی عارف نے استفسار کیا کہ آپ نے جو وردی پہن رکھی ہے اس کی عزت ہونی چاہیے مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ آپ سے خوفزدہ ہیں۔

جسٹس خلجی عارف نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کے دلوں میں وردی کااحترام ہو جس پر ڈی آئی جی ایف سی نے کہا کہ مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے کہ ہر شخص ایف سی پرالزام لگا رہا ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس طارق پرویز نے بھی پولیس کی کارکردگی پر افسوس کا اظہار کیا اور ریمارکس دیئے کہ پولیس عدالت کو گونگا بہرا سمجھتی ہے

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کل تک (جمعہ) تمام لاپتہ افراد بازیاب نہ ہوئے تو تمام افسران معطل ہونگے۔

اغواء برائے تاوان میں وزراءکے ملوث ہونے سے متعلق صوبائی وزیر داخلہ کے بیان پر سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ وزیر داخلہ کا بیان ریکارڈ کیا گیا ہے یا نہیں جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ اس حوالے سے ان کا بیان جمع کرادیا گیا ہے تاہم صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا ہے اگر عدالت نے طلب کیا تو وہ پیش ہوجائیں گے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں تو آج طلب کیا تھا تو پیش کیوں نہیں ہوئے صوبائی وزیر داخلہ کو کل عدالت میں پیش کیا جائے ورنہ ان کے خلاف جھوٹ پر مبنی بیان دینے پر سپریم کورٹ رجسٹری میں مقدمہ درج کیا جائے۔

اس سے قبل ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ وزیر اعلٰی بلوچستان کو طلب کیا گیا تھا وہ کیوں پیش نہیں ہوئے جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعلٰی نے درخواست بھیجی ہے وہ اسلام آباد میں بیرون ملک سے آنے والے وفود سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں جس پر چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم وزیراعلٰی کو صرف اس لیے بلانا چاہتے ہیں کہ وہ آکر یہاں دیکھیں کہ اصل صورتحال کیا ہے۔

اس موقع پر ہزارہ قوم کی ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان نے ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قیام امن اور عوام کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے درخواست گذار صرف اطلاع دے سکتا ہے شواہد اکٹھے کرنا اور تحقیقات کو آگے بڑھانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے بلوچستان ایک قبائلی معاشرہ ہے لیکن اب حالات اس نہج تک آگئے ہیں کہ خواتین کو احتجاج کے لیے گھر کی چار دیواری سے باہر نکل کر آنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ مسائل کی جڑوں تک نہیں پہنچا جارہا ہزارہ قوم کی ٹارگٹ کلنگ باعث افسوس ہے حکومت ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے عوام کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرے۔

اسی بارے میں