’اب فوجی، خفیہ ادارے بھی جوابدہ ہوں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ بل قومی اسمبلی میں پہلے ہی منظور ہوچکا تھا جسے بعد میں سینیٹ یعنی ایوان بالا میں بجھوایا گیا۔

پاکستان کی قومی اسمبلی نے انسانی حقوق سے متعلق ایک قومی کمیشن کی منظوری دے دی ہے جس کے پاس انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار ہوگا۔

پاکستان کے وزیراعظم سید یوصف رضا گیلانی کے مشیر مصطفیٰ نواز کھوکھر کی جانب سے پیش کیا جانے والا یہ بل نیشنل اسمبلی میں حزب اختلاف کے شدید شور شرابے کے دوران منظور ہوا۔

یاد رہے کہ یہ بل قومی اسمبلی میں پہلے ہی منظور ہوچکا تھا جسے بعد میں سینیٹ یعنی ایوان بالا میں بجھوایا گیا جہاں سے کچھ ترامیم کے بعد قومی کمیشن کا بل منظور کرلیا گیا تاہم ان ترامیم کی منظوری کے لیے بل کو جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔

انسانی حقوق سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر مصطفی نواز کھوکھر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس قومی کمیشن کا آرٹیکل چودہ اور پندرہ مسلح افواج اور خفیہ اداروں سے متعلق ہے کہ اگر اُن کی طرف سے ملک کے کسی حصے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو تو ان اداروں کے متعلقہ افراد کمیشن کو جواب دہ ہوں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ فوج یا خفیہ اداروں کے اہلکار اگر کسی بھی ایسی کارروائی میں ملوث پائے گئے جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا عنصر شامل ہو تو اُن کے خلاف کارروائی کا اختیار بھی کمیشن کے پاس ہے۔

واضح رہے کہ ملک کے مختلف علاقوں سے لاپتہ ہونے والے افراد کے اکثر واقعات میں ملوث ہونے کا الزام فوج اور سویلین خفیہ اداروں کے اہلکاروں پر عائد کیا جاتا ہے۔ لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے وزارتِ داخلہ میں بھی ایک کمیشن بنایا گیا ہے تاہم اُن کی سفارشات پر ابھی تک خفیہ ایجنسی کے کسی بھی اہلکار کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔

لاپتہ ہونے والے افراد کے ورثاء کی اکثریت اس کمیشن کی کارروائی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ اس کمیشن کی کارروائی کو حکومتی ادارے سنجیدگی سے نہیں لیتے۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ اس کمیشن کے سربراہ سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج ہوں گے یا ایسا شخص ہو گا جو سپریم کورٹ کا جج بننے کی اہلیت رکھتا ہو جبکہ کمیشن کے ارکان میں چاروں صوبوں سے ایک ایک نمائندہ ہونے کے علاوہ وفاقی دارالحکومت سے بھی ایک نمائندے کا انتخاب ہوگا۔

اُنہوں نے کہا کہ ان نمائندوں کا انتخاب حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے نمائندوں پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیٹی کرے گی اور اس پارلیمانی کمیٹی کا اعلان سپیکر قومی اسمبلی کریں گے ۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر کمیشن کو کسی بھی درخواست یا از خود نوٹس لینے کا اختیار ہوگا اس کے علاوہ کمیشن وفاقی یا صوبائی حکومت کے تحت کسی بھی ادارے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق تفصیلات طلب کرسکتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ گُزشتہ بیس سال سے انسانی حقوق سے متعلق قومی کمیشن کے قیام کا معاملہ التوا میں تھا۔

اسی بارے میں