’صدارتی ایوارڈ یافتہ فضل ربی ایک دلیر اہلکار‘

فضلِ ربی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ضل ربی دو ہزار سات میں اپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہوگئے تھے تاہم قابلیت اور تجربے کے باعث ان کی مدت ملازمت میں دوبارہ توسیع کر دی گئی

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں خار بازار میں مبینہ خودکش حملے میں مارے جانے والے صدارتی ایوارڈ یافتہ لیویز فورس کے ڈپٹی کمانڈنٹ فضل ربّی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک انتہائی دلیر اہلکار تھے جبکہ انہوں نے طالبان کے خلاف کئی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ باجوڑ لیویز فورس کے کمانڈنٹ صوبیدار میجر جاوید اور ڈپٹی کمانڈنٹ صوبیدار فضل ربی خار بازار میں ایک دوکان کے اندر بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران ایک مبینہ خودکش حملہ آور خریدار کے روپ میں وہاں آیا اور ان اہلکاروں کے قریب آکر خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے سرکاری محرر سمیت تینوں اہلکار ہلاک ہوگئے۔

فضل ربی کا شمار لیویز فورس کے انتہائی بہادر اور باصلاحیت اہلکاروں میں ہوتا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ پینتالیس سالہ فضل ربی دو ہزار سات میں اپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہوگئے تھے تاہم قابلیت اور تجربے کے باعث اس وقت کے پولیٹکل ایجنٹ نے ان کی مدت ملازمت میں دوبارہ توسیع دی اور اس طرح وہ پچھلے پانچ برس سے اپنے عہدے پر کام کرتے رہے۔

فضل ربی نے باجوڑ ایجنسی میں طالبان کے خلاف متعدد کارروائیوں میں حصہ لیا تھا اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ پچھلے کئی سالوں سے شدت پسندوں کی ہٹ لسٹ پر تھے۔ فضل ربی کے ایک قریبی رشتہ دار نے بی بی سی کو بتایا کہ فضل ربی پر اس سے پہلے بھی دو مرتبہ ریموٹ کنٹرول بم حملے کیے گئے تھے لیکن وہ اس میں محفوظ رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ فضل ربی کو معلوم تھا کہ وہ طالبان کے نشانے پر ہیں لیکن پھر بھی وہ ان کے خلاف کارروائیاں کرنے سے باز نہیں آئے اور نہ انہیں شدت پسندوں سے کسی قسم کا خوف تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ ایک خودکش حملہ آوار فضل ربی پر حملہ کرنے کےلیے سول انتظامیہ کے دفاتر تک پہنچ گیا تھا اور پولیٹکل ایجنٹ کی طرف سے فضل ربی کو اطلاع بھی دی گئی کہ وہ سول کالونی کے حدود سے باہر مت نکلیں لیکن پھر بھی انہوں نے دفتر سے باہر نکل کر سرچ آپریشن میں حصہ لیا اور حملہ آوار کو ڈھونڈنے کی کوشش کی۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمانڈنٹ مقامی عسکریت پسندوں کےلیے ایک بڑی رکاوٹ سمجھے جاتے تھے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ طالبان کی دو تنظیموں نے ان کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعوی کیا ہے۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان اور باجوڑ طالبان کے اہم کمانڈر مولوی فقیر محمد گروپ کے ایک ترجمان قاری عمر نے الگ الگ پیغامات میں الزام لگایا ہے کہ فضل ربی ان کے ساتھیوں کے قتل میں ملوث تھے اسی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا گیا۔

ڈپٹی کمانڈنٹ لیویز کو طالبان کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر حال ہی میں صدارتی ایوارڈ (تمغہ شجاعت) سے بھی نوازا گیا تھا۔

فضل ربی کا تعلق باجوڑ ایجنسی کے میاں گان اتمان خیل قبیلےسے تھا۔ انہوں نے اپنے پیچھے بیوہ، چار بیٹے اور چار بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔

اسی بارے میں