فرنٹیئر کور کے دو میجروں کے خلاف مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سپریم کورٹ کے حکم پر لاپتہ فرد کے اہل خانہ کی درخواست پر فرنیٹر کور کے دو میجروں کے خلاف خضدار میں مقدمہ درج کر لیاگیا۔

سپریم کورٹ کے حکم پر وڈھ سے لاپتہ علی حسن مینگل کے اہل خانہ کی درخواست پرخضدار پولیس فرنیٹر کور کے میجرمحمد طاہر اور میجر نوید کیخلاف آج شام مقدمہ درج کرلیاگیا۔

سپریم کورٹ نے انسپیکٹر جنرل فرنٹئیر کور عبید اللہ خان اور انسپیکٹر جنرل بلوچستان راؤ محمد ہاشم ، صوبائی سیکرٹری داخلہ نصیب اللہ اور ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان امان اللہ کنرانی سمیت تمام متعلقہ اداروں کو دو ہفتے تک عدالت عظمٰی کے احکامات پر عملدرامد سے متلعق رپورٹ جمع کرانے کی ہداہت کی ہے۔

ڈاکٹر نصیب کے والد نے عدالت میں پیش ہوکر تصدیق کی کہ ان کا بیٹا بازیاب ہوکر قلات میں اپنی ڈیوٹی دینے چلا گیا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مارواڑ سے اپریل کو لاپتہ سات میں سے تین افراد کے رشتہ داروں نے بتایا کہ سفر خان، عبدالکریم اور بوا خان اپنے گھر پہنچ چکے ہیں لیکن ناسازی طبع کے باعث عدالت نہیں آسکے۔

وائس فار مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے عدالت سے استدعا کی کہ مارواڑ سے لاپتہ ہونے والے عبدالنبی، ثناءاللہ ، مولا بخش سمیت چار افراد کو بھی بازیاب کرایا جائے۔ لاپتہ افراد کے لواحقین نے بتایا کہ ان افراد کو ایف سی کے اہلکار لے گئے تھے۔

لاپتہ ہونے والے علی حسن کے متعلق جب بنچ کے ججز نے پولیس سے استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ مذکورہ شخص کے خلاف مقدمات ہیں اور اس سلسلے میں تفتیش جاری ہے۔

اس موقع پر لاپتہ ہونے والے شبیر احمد سمالانی کے متعلق ایڈووکیٹ جنرل امان اللہ کنرانی نے کہا کہ اسے آوارہ گردی کے الزام میں پکڑا گیا تھا۔ جس پر پولیس حکام نے بتایا کہ ملزم کو پہلے ایم پی او کے تحت تین ماہ تک قید رکھا گیا تھا بعد ازاں انہیں بروری تھانہ کے علاقے سے آواری گردی میں پکڑا گیا اور چوبیس گھنٹے کے بعد ان کی والدہ کو بلاکر حوالے کیا گیا جس کی تصاویر ہمارے پاس موجود ہیں۔

سماعت کے دوران کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے انکشاف کیا کہ جب وکلاء لاپتہ افراد سے متعلق گورنر کے پاس گئے تو گورنر نے کہا کہ ان کے اپنے کزن کو بھی اٹھا کر لے گئے ہیں اس لئے وہ کچھ نہیں کرسکتے۔ ڈی آئی جی ایف سی نے کہا کہ ایف سی کی بارہ سو نفری کوئٹہ میں تعینات ہے ۔ ایف سی کے آنے سے جرائم کی وارداتوں میں کمی آئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری کوئٹہ موجودگی کے دوران بھی قتل اور اغواءکے واقعات ہوئے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دئیے کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ سب کی عزت رہے ملک بچانے کےلئے بلوچستان میں امن و امان سے متعلق کیس کی سماعت کی جارہی ہے اب تک خاموش تھے کسی کے خلاف ایکشن نہیں لیا۔

کارروائی کی کاپیاں وزیر اعظم، وزیر داخلہ، وزیر دفاع، گورنر سمیت متعلقہ حکام کو بھیجی جارہی ہیں لیکن اس کے باوجود کوئی سنجیدہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب سیکرٹری دفاع کو ریکارڈ سمیت طلب کر کے ان سے کہیں کہ وہ تمام متعلقہ اداروں کو طلب کر کے پوچھیں کہ بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے اب آرڈر کریں گے کوئی مانے یا نہ مانے لاپتہ افراد کو منظر عام پر لائیں گے۔

شبیر کی والدہ عدالت میں روپڑی اور کہا کہ چار سال سے اپنے بیٹے کو نہیں دیکھا۔ شبیر کی والدہ نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ جب تک میرا بچہ نہیں ملتا آپ اسلام آباد نہ جائیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شبیر کے لاپتہ ہونے کا کیس پولیس کے خلاف جا رہا ہے جو پولیس افسر کام نہیں کر رہے ان کی تنخواہیں روک لیں۔

جسٹس طارق پرویز نے کہا کہ ’ایک ماں عدالت میں کھڑی ہے میں حیران ہوں کہ اللہ کا عذاب کیوں نہیں آیا صورتحال یہ ہے تو ہم پر تو پتھر برسنے چاہیئں۔‘

عدالت کو بتایا گیا کہ مارواڑ سے گیارہ اپریل کو لاپتہ ہونےسات میں سے تین افراد گھر پہنچ گئے ہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ایف سی سے رابطہ کرکے دیگر چار افراد کو بھی منظر عام پر لایا جائے۔

ایک موقع پر چیف جسٹس نے آئی جی پولیس ڈی آئی جی ایف سی صفدر شہزاد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں کالے شیشے والی اور غیر قانونی گاڑیوں کے خلاف پولیس اور ایف سی مشترکہ کارروائی کریں اور ملوث لوگوں کو گرفتار کیا جائے۔

کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے چیف جسٹس نے کہا کہ ٹارگٹ کلرز، بلوچ، پشتون، ہزارہ، آباد کار سمیت سب کو مار رہے ہیں ان کے خلاف ایکشن ضروری ہے لوگ جیل توڑ کر بھاگتے ہیں جب کوئی گرفتار ہوتا ہے تو اس کے خلاف ثبوت اور شواہد نہیں ہوتے جو پولیس کی نا لائقی ہے۔

انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ شہر کو اسلحہ سے پاک بنانے کےلئے ٹھوس عملی اقدامات کئے جائیں۔

جمعہ کو سماعت کے دوران مزید ساٹھ لاپتہ افراد کے لواحقین نے سپریم کورٹ رجسٹری میں درخواستیں جمع کرائیں جس کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت دوہفتوں کت ملتوی کردی۔

اسی بارے میں