ڈرون حملے میں آٹھ ہلاک، پاکستان کی شدید مذمت

پاکستان نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حملے ٹیکٹکل فائدوں سے کہیں زیادہ سٹریٹیجک نقصانات کا باعث بنتے ہیں۔

سنیچر کی صبح شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے کوئی چالیس کلومیٹر دور، شمالی اور جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے شوال میں ایک امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق پاکستان کئی بار یہ کہہ چکا ہے کہ غیرقانونی ڈرون حملے نہ صرف ملکی سلامتی اور خودمختاری بلکہ عالمی قوانین کی خلاف وزری ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈرون حملوں سے فائدے کی بجائے نقصان ہوتا ہے۔

’ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے حملے ٹیکٹکل فائدوں سے کہیں زیادہ سٹریٹیجک نقصانات کا باعث بنتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ یکم مئی کو اسامہ بن دلان کی ہلاکت کو ایک سال مکمل ہونے سے ایک دن پہلے امریکہ میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے صدر براک اوباما کے مشیر نے کہا تھا کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں شدت پسندوں کے نیٹ ورک کے خلاف جنگ جیتنے میں مدد مل رہی ہے۔

ان کے بقول’ ڈرون حملے قانونی ہیں، ان کا اخلاقی جواز ہے اور یہ ضروری اور متناسب ہیں۔‘

اس سے پہلے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ طیارے نے دو میزائل فائر کیے جس سے مکان کے دو کمرے بھی تباہ ہو گئے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ مکان گزشتہ چھ ماہ سے شدت پسندوں ایک ٹھکانے کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

ہلاک ہونے والے غیر ملکی بتائے جاتے ہیں لیکن فی الوقت یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کا تعلق کس ملک سے تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مکان افغان سرحد سے پاکستان کی حدود میں تین کلو میٹر اندر ہے۔ ان کے مطابق یہ علاقہ جنگل ہے اور اس میں حافظ گل بہادر گروپ، پنجابی طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانے موجود ہیں۔

واضح رہے کہ یہ ٹھکانے خصوصاً افغانستان جانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ شمالی، جنوبی وزیرستان اور افغانستان کے درمیان نقل و حرکت کے لیے بھی یہی راستہ استعمال ہوتےہیں۔

پاکستان میں ڈرون حملوں کی تاریخ، احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف کئی بار احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں

امریکی غیر سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں دو ہزار چار سے لے کر اب تک تین سو سے زائد کے قریب ڈرون حملے ہوچکے ہیں جن میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔

پاکستان میں پہلا ڈرون حملہ اٹھارہ جون سنہ دو ہزار چار کو جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے قریب ہوا تھا جس میں طالبان کمانڈر نیک محمد مارے گئے تھے۔

امریکی اداروں کے مطابق سنہ دو ہزار چار سے لے کر دو ہزار سات تک پہلے چار سالوں میں کل نو حملے ہوئے جبکہ سنہ دو ہزار آٹھ میں تینتیس، سنہ دو ہزار نو میں تریپن، سنہ دو ہزار دس میں سب سے زیادہ یعنی ایک سو اٹھارہ اور سنہ دو ہزار گیارہ میں سترسے زائد حملے ہوچکے ہیں۔

پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج ہوتا رہتا ہے اور ان حملوں کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ان میں زیادہ تر بے گناہ افراد نشانہ بنتے ہیں۔

عموماً دیکھا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات جب بھی تلخی کا شکار ہوئے ہیں ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی تعطل کا شکار رہا ہے تاہم یہ تعطل مستقل بندش کی شکل اختیار نہیں کر سکا۔

گزشتہ سال چھبیس نومبر کو مہمند ایجنسی میں سلالہ کے سرحدی علاقے میں پاکستانی چوکیوں پر نیٹو کے فضائی حملے کے بعد امریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ڈرون حملوں کا سلسلہ تقریباً ڈیڑھ ماہ کے لیے تعطل کا شکار رہا تھا تاہم رواں برس جنوری کے دوسرے ہفتے سے یہ سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع ہو چکا ہے۔

اس سے پہلے دو ہزار گیارہ کے شروع میں بھی چوبیس روز تک ڈرون حملے بند رہے تھے جب امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تلخی میں اضافہ ہوا تھا تاہم بعد میں جاسوس طیاروں کے حملے دوبارہ شروع ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں