’اسامہ کی حاسد بیویاں اور بچے‘

 اوسامہ بن لادن تصویر کے کاپی رائٹ

جمعرات کو امریکی حکومت کی جانب سے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ سے قبضے میں لیے گئے کمپیوٹر مواد کی بنیاد پر مرتب کی گئی دستاویزات جاری کی گئی ہیں۔

یہ دستاویزات القاعدہ کے سربراہ کے کام کرنے کے طریقے پر روشنی ڈالتی ہیں لیکن ان دستاویزات سے پاکستان میں خفیہ طریقے سے رہنے والے اوسامہ بن لادن کی خاندانی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

لیکن بی بی سی کو اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں دس برس کی رہائش کے دوران بن لادن اور ان کے خاندان والے ملک بھر میں گھومے۔ ساتھ ہی اس خاندان کو طبی سہولیات کی رسائی تھی اور یہ افراد باہر کی دنیا سے بھی مسلسل رابطے میں تھے۔

ایک برس پہلے ایبٹ آباد کے جس گھر میں دنیا کا ’انتہائی مطلوب شخص‘ مارا گیا تھا وہاں سے امریکی کمانڈو کے دستے کو پچیس افراد ملے تھے۔

نو مہینے تک پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کی حراست میں رہنے کے بعد ان میں سے بعض پر غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں رہنے کا مقدمہ چلایا گیا تھا۔

اس کے بعد گزشتہ ہفتے بن لادن کی تین بیویاں اور ان کے خاندان کے چودہ افراد کو سعودی عرب بھیج دیا گیا۔

ان کے علاوہ ایبٹ آباد میں اس گھر میں دیگر افراد بھی رہائش پذیر تھے۔

Image caption اوسامہ کے اہل خانے کو پاکستان سے سعودی عرب بھیج دیا گیا

امریکی کارروائی میں بن لادن کے فرزند خالد بن لادن، ان کا پاکستانی میزبان اور رازدان ابرار عرف ارشد خانن عرف ابو احمد الکویتی، ارشد خان کی اہلیہ اور ان کے بھائی مارے گئے تھے۔

لیکن ان کے خاندان کے بعض افراد بچ گئے تھے اور ان کا موجودہ پتہ راز میں رکھا گیا ہے۔

چونکہ ان میں سے کسی بھی شخص نے کبھی بن لادن کے بارے میں کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا اس لیے ان کی پاکستان میں رہائش کے دوران کے بارے میں کم ہی معلومات ہیں۔

ہمیں صرف اتنا معلوم ہے کہ بن لادن نے ایبٹ آباد کے گھر میں چھ برس گزارے تھے۔

اس گھر کا دورہ کرنے والے واحد صحافی سی این این کے پیٹر برگ اسے ایک گندی سی رہائش گاہ بتاتے ہیں۔

اوسامہ بن لادن بچوں اور جھگڑا کرنے والی بیویوں میں گھرے رہتے تھے۔ ان کے بچوں کو کبھی کھبی کمپاؤنڈ میں کرکٹ کھیلنے کی اجازت تھی۔

ان کی سب سے چھوٹی بیوی کا تعلق یمن سے تھا۔ امل الصداح نے بن لادن کی زندگی کے بارے میں پاکستانی تفتیش کاروں کو کافی معلومات دی تھیں۔

امل نے جو معلومات فراہم کی تھیں وہ حال ہی میں میڈیا میں سامنے آئی ہیں۔

انہوں نے پاکستانی تفتیش کاروں کو بتایا کہ ان کی شادی سال دو ہزار میں افغان صوبہ قندھار میں ہوئی تھی۔ امریکہ پر نو گیارہ کے حملوں تک وہ بن لادن کی دیگر بیویوں کے ساتھ وہیں رہیں۔

بن لادن کی موت کی تفتیش کرنے والے سابق فوجی اہلکار بریگیڈئیر ریٹائرڈ شوکت قادر لکھتے ہیں کہ سال دو ہزار دو میں بن لادن اور امل الصداح نے پشاور کے جنوب میں واقع ایک گاؤں میں کچھ وقت گزارا تھا۔

امل نے تفتیش کاروں کو بتایا تھا کہ بن لادن وہاں علاج کے لیے گئے تھے۔ وہاں بن لادن سے ملاقات کرنے خالد شیخ محمد بھی آئے تھے۔

خالد شیخ پر نائن الیون حملے کے ماسٹر مائنڈ ہونے کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

سال دو ہزار تین اور چار کی شروعات میں بن لادن، امل اور ان کے بچے سوات کے قریبی شہر شانگلا چلے گئے تھے۔

اس کے بعد سنہ 2004 کی گرمیوں میں یہ ہری پور میں رہے اور آخر میں 2005 کے آخر یا 2006 کی شروعات میں ایبٹ آباد آ گئے۔

امل نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ سال 2003 اور سال 2008 کے درمیان انہوں نے چار بچوں کو جنم دیا اور سبھی بچے سرکاری ہسپتالوں میں پیدا ہوئے۔

بن لادن کی باقی دو بیویوں کے بارے میں سال 2001 کے بعد زیادہ معلومات نہیں ہے۔ سال 2001 میں یہ لوگ الگ ہوگئے تھے۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ قادر کے مطابق سعودی شہری سھام اور ان کے تین بچے سنہ 2003 میں بن لادن اور امل کے ساتھ ہری پور میں رہنے لگے اور وہ بن لادن کی موت تک ساتھ رہے۔

سھام چوبیس سالہ خالد کی ماں تھیں اور خالد گزشتہ برس امریکی کارروائی میں بن لادن کے ساتھ ہلاک ہوگئے تھے۔

بریگیڈئیر ریٹائرڈ قادر کے مطابق سھام ایک ٹیچر تھیں اور وہ لادن کے بچوں کو تعلیم دینے کی وجہ سے ان کے ساتھ رہیں کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ بچے کسی سکول سے تو تعلیم حاصل نہیں کر سکیں گے۔

بن لادن کی سب سے بڑی بیوی خیریہ نائن الیون کے حملوں کے بعد شاید ایران چلی گئی تھیں اور وہاں انہیں سال دو ہزار تین یا سال دو ہزار چار میں حراست میں لے لیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسامہ کے خاندان کو گزشتہ دنوں سعودی عرب ملک بدر کر دیا گیا ہے

خیریہ کو ستمبر 2010 میں ایرانی سفارتکار ہشمت اللہ اطہرزادے کی رہائی کے بدلے میں رہا کر دیا گیا تھا۔ اطہرزادے کو شدت پسندوں نے سال دو ہزار آٹھ میں پشاور سے اغواء کر لیا تھا۔

ان کے بیٹے تو نامعلوم مقامات پر چلے گئے لیکن خیریہ وزیرستان میں بن لادن کے معاون عطیہ عبدالرحمن نے پاس چلی گئی۔

اس کے بعد وہ سال 2011 کی شروعات میں بن لادن کے ایبٹ آباد میں واقع مکان میں پہنچی۔

بریگیڈئیر قادر کے مطابق خیریہ، بن لادن کی سب سے چھوٹی بیوی سے بے حد حسد کرتی تھیں۔

وہ لکھتے ہیں’ اوسامہ بن لادن اس وقت صرف امل کے ساتھ ہی سوتے تھے۔‘

لیکن اس صورت میں وہ اپنی جان مشکل میں ڈال کر واپس بن لادن کے پاس کیوں آئیں؟

بریگیڈئیر ریٹائرڈ قادر کو شک ہے کہ خیریہ امریکیوں کو بن لادن کے ٹھکانے تک لائیں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکی تفتیش کار ان سے کوئی بھی اہم معلومات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایبٹ آباد میں اسامہ بن دلان کی رہائش گاہ کو منہدم کر دیا گیا ہے

بریگیڈئیر قادر آئی ایس آئی کے ایک تفتیش کار کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ ’وہ اتنی جارحانہ ہیں کہ ان سے ڈر لگنے لگتا ہے۔ ہم ان کو اذیت نہیں دے سکتے تھے اس لیے ان سے کچھ قبول نہیں کروا سکے۔‘

مئی دو ہزار دس میں بی بی سی کو معلوم ہوا تھا کہ بن لادن وزیرستان گئے تھے۔ یہ وہی وقت تھا جب وزیرستان پر امریکی ڈرون حملے ہو رہے تھے اور پاکستان شدت پسندوں کے خلاف کئی آپریشن سرانجام دے رہا تھا۔

بن لادن وزیرستان میں اپنے کمانڈروں سے ملنے گئے تھے تاکہ وہ حالات کا خود جائزہ لے سکیں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے دورے کے بارے میں عطیہ عبدالرحمن کو طویل خط لکھا تھا۔

اکتوبر سال دو ہزار دس میں لکھا گیا کہ یہ خط امریکہ کی جانب سے جاری کیے گئے دستاویزات کا حصہ ہے۔

اسی بارے میں