شمالی وزیرستان: نو سکیورٹی اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی کے صدر مقام میرانشاہ میں شدت پسندوں کے حملے میں نو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دس زخمی ہو گئے۔

پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ میرانشاہ میں شدت پسندوں کے حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں کئی شدت پسند ہلاک اور بیس کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر ہیلی کاپٹروں سے کارروئی کی ہے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ ایک گاڑی پر حملے میں کم سے کم دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مقامی صحافی کا کہنا ہے کہ علاقے میں سنیچر کی صبح سے کرفیو نافذ ہے اور شام گئے تک فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ اتوار کے روز عام طور پر میرانشاہ ، اور شہر سے دیگر علاقوں جیسے دتہ خیل اور بنوں کی جانب جانے والے راستوں پر بھی کرفیو نافذ رہتا ہے اور اتوار کو سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ بھی کرفیو کے دوران ہی کیا گیا ہے۔

ادھر پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزیی ایجنسی میں فوجی کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر سکیورٹی فورسز کی بمباری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں اس سے پہلے بھی فوج پر متعدد بار حملے ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں