’فوج کا کام قومی مفاد کا تعین کرنا نہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسُین حقانی نے کہا ہے کہ فوج کا کام قومی مفاد کا تعین کرنا نہیں بلکہ سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔

بی بی سی اردو سروس کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں سامعین کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو اپنے دائرے میں رہنا چاہیے اور فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے نہ کہ ہر سول منتخب رہنماء کے متعلق یہ فیصلہ کرنا کہ کون محب وطن ہے اور کون نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ فوج اور ایجنسیاں قوم کے قیمتی ادارے ہیں لیکن ان کا مقصد اور مقصود یہ نہیں ہونا چاہیے کہ سیاسی معاملات پر اثر انداز ہوں۔

سابق سفیر کا کہنا تھا ’میں اپنا ٹی وی الیکٹریشن سے ٹھیک کراتا ہوں اور اپنے دل کی بیماری کے لیے ڈاکٹر کے پاس جاتا ہوں۔ میں الیکٹریشن سے دل اور ڈاکٹر سے اپنا ٹی وی ٹھیک نہیں کراتا۔‘

انہوں نے کہا ’فوج حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کا ادارہ نہیں ہے اور حکومت پر قبضے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔‘

سابق سفیر نے کہا کہ غیر جمہوری قوتوں کا راستہ روکنا ہر جمہوری قوت کا فرض ہے اور ہر پاکستان کے شہری کا آئینی فرض ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عدلیہ کا بہت احترام کرتے ہیں لیکن ’آئین، قانون اور انسانی حقوق بھی بہت ضروری ہیں۔‘

حسین حقانی نے متنازع میمو کیس میں ان پر لگائے گئے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ ان کے خلاف سازش ہے تو یہ ان ہی لوگوں کی سازش ہو سکتی ہے جو انہیں امریکہ کا سفیر نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں رائے کا احترام کرتے ہوئے اختلاف کرنے کا کلچر ابھی پیدا نہیں ہوا: حسین حقانی

میمو کمیشن کے مرکزی کردار منصور اعجاز کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بعض امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ شہرت کے بھوکے شخص ہیں اور وہ ماضی میں امریکی حکام پر بھی اس طرح کے الزام لگا کر پیچھے ہٹ چکے ہیں۔

ان کے بقول ’فرق صرف اتنا ہے کہ امریکی نظام اتنا مضبوط ہے کہ الزام لگایا گیا اور جب ایک دو دن کے اندر ثبوت سامنے نہیں آئے تو امریکی ٹی وی میڈیا نے انہیں اہمیت دینا بند کر دی۔‘

ان کے بقول ’میڈیا ٹرائل تو آپ کسی کے بھی خلاف شروع کر سکتے ہیں لیکن اگر کسی کے پاس ثبوت ہیں تو میرے خلاف مقدمہ درج کریں۔‘

انہوں نے کہا کہ ایک اقلیت نے پاکستان کو نظریاتی اور فکری طور پر ’ہائجیک‘ کیا ہوا ہے اور جو اس پر تنقید کرے اسے غیر محب وطن، غدار یا غیر ملکی ایجنٹ کہا جانے لگتا ہے۔

حسین حقانی نے کہ ’پاکستان میں رائے کا احترام کرتے ہوئے اختلاف کرنے کا کلچر ابھی پیدا نہیں ہوا۔‘

انہوں نے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات پر اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ سے بہتر تعلق اور امریکہ کے ساتھ مجاز آرائی نہ کرنا پاکستان کے حق میں ہے۔

انہوں نے کہا ’امریکہ دشمن ہے یا نہیں، بات سیدھی سی ہے اور وہ یہ کہ ایک بڑی طاقت کے ساتھ مقابلہ کرنا پاکستان کے نقصان میں ہوگا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ پاکستان واپس آئیں گے اور ان لوگوں کا سامنا کریں گے جو ان کے موقف کی بنیاد پر ان پر ناجائز الزامات لگاتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’موقف سے اختلاف کا آپ کو حق ہے لیکن میری نیت اور میری پاکستان سے محبت پر شعبے کا آپ کو حق نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں