خیبر ایجنسی:آپریشن کا دائرہ مزید وسیع

پاکستان کے قبائلی خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے لیے مقامی قبائل کو علاقہ خالی کرنے کے لیے دو دنوں کی مہلت دے دی گئی ہے۔

باڑہ سب ڈویژن کے تحصیل دار غلام فاروق نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ باڑہ کے علاقے شلوبر میں قبائل کو کہا گیا ہے کہ وہ کل یعنی منگل تک سارے علاقے کو خالی کردیں تاکہ آپریشن کو دوسرے علاقوں تک پھیلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ نے بے گھر ہونے والے افراد کو قمبر آباد کے راستے متاثرین کیمپوں تک پہنچانے کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کر لئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے بے گھر متاثرین کے لیے پہلے سے جلوزئی مہاجر کیمپ میں عارضی طور پر انتظامات کئے ہیں جہاں باڑہ کے دیگر متاثرین بھی رہائش پزیر ہیں۔

ادھر پناہ گزین کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ یو این ایچ سی آر کے ترجمان تیمور احمد کا کہنا ہے کہ شلوبر کے متاثرین کا اندراج پہلے سے جاری ہے اور اب تک اس قبیلے کے سینکڑوں افراد رجسٹر کئے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امکان ہے کہ اگلے دو تین دنوں میں نقل مکانی میں مزید اضافہ ہوگا لیکن اس کے لیے تمام تر انتظامات پہلے سے مکمل کرلئے گئے ہیں۔

ان کے مطابق باڑہ میں جاری حالیہ آپریشن کی وجہ سے اب تک دو لاکھ سترہ ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں جن میں تیرہ فیصد لوگ متاثرہ کیمپوں میں جبکہ دیگر خاندان اپنے عزیزوں، رشتہ داروں یا اپنے طور پر کرائے کے مکانات میں مقیم ہیں۔

خیال رہے کہ سکیورٹی فورسز نے چند ماہ قبل اچانک باڑہ کے چند علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا۔ اطلاعات ہیں کہ جنوری میں سکیورٹی فورسز کی تعداد میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں حملوں اور جوابی کارروائیوں کے سلسلے میں بھی تیزی آ گئی۔

خیبر ایجنسی میں پچھلے چند ماہ کے دوران سکیورٹی کی صورتحال کافی حد تک خراب ہوئی ہے۔ اِن دنوں علاقے میں سکیورٹی فورسز، قبائلی رہنماء منگل باغ کا گروہ لشکرِ اسلام، تحریکِ طالبان پاکستان اور حکومت کے حمایت یافتہ مقامی لشکر ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

اسی بارے میں