انسدادِ دہشتگردی اتھارٹی کا عدم تعاون کا شکوہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خودکش حملوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں سے متعلق بھی پیشگی کوئی رپورٹ حکام کو نہیں دی گئی

ملک میں دہشت گردی اور شدت پسندی کی وارداتوں کے سدباب کے لیے بنائی جانے والی قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی نے وفاقی حکومت سے اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں اور سویلین اور فوجی خفیہ اداروں کی طرف سے عدم تعاون کی شکایت کی ہے۔

متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ ایسی صورت حال میں اتھارٹی دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کارآمد پالیسیاں بنانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ موجودہ حکومت نے تین سال قبل دہشت گردی اور شدت پسندی کے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر پالیسیاں بنانے کے لیے قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی قائم کی تھی اور ایف آئی اے یعنی وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سابق ڈائریکٹر جنرل طارق پرویز اس اتھارٹی کے پہلے سربراہ رہے ہیں۔

اس اتھارٹی کے قیام کا مقصد دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق مختلف ممالک کی طرف سے اپنائی جانے والی حکمت عملی کا مطالعہ کرنے کے بعد ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے پالیسیاں مرتب کرنا ہے۔ اس ضمن میں اتھارٹی کے حکام نے ملاشیا،انڈونیشیا، اسٹریلیا اور دیگر ملکوں کا دورہ کرنے کا علاوہ اُن کی پالیسیوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ اس اتھارٹی کے حکام نے ایسی صورت حال میں قومی دولت ضیاع قرار دیتے ہوئے اس ادارے کو ختم کرنے یا کسی دوسرے ادارے میں ضم کرنے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق چاروں صوبوں کے ہوم ڈیپارٹمنٹ اور دیگر خفیہ اداروں کی طرف سے عدم تعاون کے بارے میں اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ گُزشتہ برس کراچی میں نیوی کی مہران بیس پر حملوں سے لیکر صوبہ خیبر پختون خوا کے شہر بنوں کی جیل پر شدت پسندوں کا دھاوا اور خیبر ایجنسی اور دیگر علاقوں میں خودکش حملوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں سے متعلق بھی پیشگی کوئی رپورٹ حکام کو نہیں دی گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس سے متعلق وزارت داخلہ اور دیگر اداروں کو خفیہ اداروں کو آگاہ کیا گیا ہے لیکن انسداد دہشت گردی کی اتھارٹی کو اس ضمن میں آگاہ نہیں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق صوبائی ہوم ڈیپارٹمنٹ اور دیگر خفیہ اداروں کی طرف سے مبینہ طور پر تعاون نہ کرنے کی وجہ سے موجودہ صورت حال میں قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی ابھی تک کوئی موثر پالیسی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دینے میں ناکام رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کبھی کبھار خفیہ اداروں کی طرف سے کوئی اطلاع اتھارٹی کو ملتی بھی ہے تو اُسے ایسے عام کر کے پیش کیا جاتا ہے کہ فلاں شہر میں اتنے شدت پسند کارروائی کے لیے داخل ہوگئے ہیں جبکہ اس بارے میں کوئی مخصوص اطلاع نہیں دی جاتی کہ ان افراد کو اُس شہر میں کس کی پُشت پناہی حاصل ہوگی۔

یاد رہے کہ وزیر داخلہ رحمان ملک متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خفیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ۔ اُن کے بقول ملک میں کالعدم اور شدت پسند تنظیموں کو جو پسپائی کا سامناہے وہ انہی خفیہ اداروں کے تعاون کی وجہ سے ہی ہے۔

اسی بارے میں