شمالی وزیرستان: دوسرے روز بھی جھڑپیں جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سرکاری ذرائع کے مطابق میرانشاہ شہر اور قریبی علاقوں میں کرفیو نافذ ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں آج دوسرے روز بھی بعض مقامات پر سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایجنسی ہیڈ کوارٹر میرانشاہ میں فائرنگ اور گولے گرنے سے دو خواتین سمیت چار افراد ہلاک اور دو بچیاں زخمی ہوئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ میرانشاہ شہر اور قریبی علاقوں میں کرفیو نافذ ہے جبکہ بعض مقامات سے فائرنگ اور گولہ باری کی آوازیں بھی سنی جا رہی ہیں اور لوگ گھروں میں محصور ہیں۔ اہلکار کے مطابق آج سوموار کی صبح ایک مکان پر گولہ گرنے سے ایک خاتون اور ان کی بیٹی زخمی ہوئے ہیں جبکہ ظفر ٹاؤن اور قریبی علاقے میں گولہ باری اور فائرنگ سے دو خواتین اور دو مرد ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے ظفر ٹاؤن کے علاقے میں جسم سے جدا دو افراد کے سر ملے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ سر دو فوجیوں کے ہیں جنہیں شدت پسندوں نے ایک چھاپے کے دوران پکڑ لیا تھا۔ سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔ فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے کے مقامی افسر نے ان واقعات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

گزشتہ روز نامعلوم افراد نے امین پِکٹ کے قریب فوج کے قافلے پر حملہ کیا تھا جس میں ابتدائی اطلاعات میں یہی کہا گیا تھا کہ تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی اہلکاروں نے جوابی کارروائی شروع کر دی تھی اور مختلف مقامات پر شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں۔ اتوار کو رات کے وقت سرکاری سطح پر نو سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت اور دس کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز فائرنگ اور شیلنگ سے پانچ عام شہری ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہو گئے تھے۔ کل رات کے وقت ایک مسجد پر گولہ گرنے سے تین افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ ایک دوسرے واقعہ میں ایک ہیلی کاپٹر سے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس ساری کارروائی میں اب تک شدت پسندوں کے جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہو رہیں تاہم بعض مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دو روز میں چار شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں