کراچی، دس مطلوب ملزمان پر لاکھوں کا انعام

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عزیر بلوچ مطلوب افراد کی لسٹ میں سر فہرست ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی پولیس نے دس انتہائی مطلوب ملزمان کی نشاندہی کی ہے جو کچھ عرصے پہلے تک اسی شہر کے عام لوگ تھے لیکن اب ان کے سروں پر لاکھوں روپے کے انعام کی سفارش کردی گئی ہے۔

اگر پولیس کی رائے معلوم کی جائے تو وہ تحریک طالبان کے مفرور کمانڈروں کی گرفتاری کو ترجیح دیتی ہے لیکن پہلے کالعدم پیپلز امن کمیٹی کی قیادت کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے لانے کے لیے پولیس پر مسلسل دباؤ بنا ہوا ہے۔

پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ اور ان کے نائب نور محمد عرف بابا لاڈلا سمیت دس افراد انتہائی مطلوب ملزمان کی فہرست میں شامل ہیں۔

عزیر بلوچ

عزیر بلوچ، امن کمیٹی کے سربراہ اس وقت مقرر کیےگئے جب امن کمیٹی کے خالق اور سابق سربراہ رحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت ایک مشتبہ پولیس مقابلے میں سنہ دو ہزار نو میں مارے گئے جن کے سر کی قیمت ستّر لاکھ روپے مقرر تھی۔

اس مقابلے کی سربراہی بھی ایس پی چوہدری اسلم نے کی تھی جو حال ہی میں ہونے والے لیاری آپریشن کے نگراں رہے۔

پولیس کے مطابق عزیر بلوچ کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر بیس لاکھ روپے مقرر کیے جانے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان کے خلاف چھتیس مقدمات درج ہیں جس میں قتل، اقدامِ قتل، اغواء، اغواء برائے تاوان، منشیات اور بھتہ خوری کے الزامات ہیں۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق، عزیر بلوچ شادی شدہ ہیں اور انہوں نے ثانوی تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ لیاری میں سنگھولین کے رہائشی ہیں۔

نور محمد عرف بابا لاڈلا

نور محمد عرف بابا لاڈلا، عزیر بلوچ کے نائب ہیں اور ان کے سر کی قیمت تیس لاکھ روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان پر ایک سو بیس کے قریب مقدمات درج ہیں جس میں قتل، اقدامِ قتل، اغواء، اغواء برائے تاوان، منشیات اور بھتہ خوری کے الزامات ہیں۔ بابا لاڈلا نے دو شادیاں کی ہیں اور ان کی لیاری کے دبئی چوک پر رہائش ہے۔

عمر کچھی

عمر کچھی کے سر کی قیمت دس لاکھ روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے جو لیاری کے رہائشی نہیں ہیں بلکہ وہ گلشنِ سکندرآباد، کیماڑی میں رہتے ہیں۔ عمر کچھی شادی شدہ ہیں۔ وہ قتل، اقدامِ قتل، اغواء، اغواء برائے تاوان، منشیات اور بھتہ خوری کے پینتیس مقدمات میں مطلوب ہیں۔

حسن حسو عرف پپو کانا

اس فہرست میں چوتھا نام حسن حسو کا ہے جن کے سر کی قیمت بیس لاکھ روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ وہ قتل، اقدامِ قتل، اغواء، اغواء برائے تاوان، منشیات اور بھتہ وصول کرنے کے متعدد مقدمات میں ملوث ہیں۔

راشد ریکھا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لیاری میں امن کے لیے پولیس نے آپریشن کیا ہے

سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست میں پانچواں نام راشد عرف ریکھا کا ہے جن کے سر کی قیمت پندرہ لاکھ روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ لیاری کے علی محمد محلہ کے رہائشی راشد عرف ریکھا شادی شدہ ہیں اور ان کے خلاف ستّر کے قریب مقدمات درج ہیں۔

طالبان

کراچی میں طالبان کی موجودگی سیاسی جماعتوں میں ایک متنازع موضوع بنی رہی ہے۔ اس سے پہلے پولیس کو فرقہ وارانہ یا شدت پسند تنظیموں کے افراد ہی مطلوب ہوتے تھے مگر اب اس کی فہرست میں کالعدم تحریک طالبان بھی شامل ہوگئی ہے۔

انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں اِن پانچ افراد کے نام خان زمان محسود، شیر زمان، زبیر، فدا محسود، اور طیب محسود ہیں جن کے سروں کی قیمت بالترتیب پچیس لاکھ، پچیس لاکھ، بیس لاکھ، دس لاکھ اور دس لاکھ روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خان زمان کراچی میں کالعدم تنظیم کے سربراہ ہیں جبکہ شیر زمان محسود، پولیس انسپکٹر اعظم محسود کے بھائی ہیں اور یہ دونوں پولیس افسر راؤ انوار پر حملہ کرنے کے الزم میں مفرور ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انتہائی مطلوب افراد کے سروں کی قیمت مقرر کرنے کے لیے سندھ حکومت نے نوٹیفکیشن تیار کرلیا ہے جس کا اجراء جلد ہی کردیا جائے گا۔

اس مرتبہ لیاری اور تحریک طالبان کے رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے ناموں کو ایک ہی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جس کے بعد یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ ان کا آپس میں کیا کوئی تعلق بنتا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس فہرست میں پانچ افراد ایسے ہیں جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے اور ان کے لیاری میں موجود جرائم پیشہ افراد کے ساتھ نہ صرف رابطے ہیں بلکہ انہوں نے حالیہ آپریشن کے دوران ان کی عملی مدد بھی کی ہے۔

اسی بارے میں