دو لاپتہ افراد گھر واپس، لواحقین کا عدم اطمینان

balochistan, missing تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ان کے لواحقین کئی مرتبہ احتجاجی مظاہرے کر چکے ہیں۔

بلوچستان کے علاقے مارواڑ سے ایک سال قبل لاپتہ ہونے والے مزید دو افراد منظرعام پرآگئے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے کہا ہے کہ نئے لاپتہ کئے جانے والے افراد کو منظر عام پر لاکر لواحقین کو لولی پاپ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

11اپریل 2011ء کو کوئٹہ کے علاقے مارواڑ سے لاپتہ کئے جانے والے سات میں سے تین افراد کو گذشتہ دنوں سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا۔

عدلیہ نے احکامات دیئے تھے کہ باقی افراد کو سامنے لایا جائے جس پر منگل کے روز مزید دو افراد شاہنواز اور ثناءاللہ ساتکزئی منظرعام پرآگئے۔ جبکہ عبدالنبی اور مولا بخش تاحال لاپتہ ہیں۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے دو لاپتہ افراد کے منظر عام پر آنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’سیکورٹی فورسز اور خفیہ ادارے لواحقین اور انصاف کے اداروں کو لولی پاپ دے کر خوش کرنا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ایک سال قبل جبری طور پر لاپتہ کئے جانے والے افراد کو تو سامنے لایا جارہا ہے لیکن تین سال قبل یا اس سے زائد عرصہ سے جو افراد لاپتہ ہیں ان کے بارے میں کوئی علم نہیں کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔‘

نصراللہ بلوچ نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے استدعا کی کہ جبری طور پر لاپتہ کئے جانے والے تمام افراد کی بازیابی کےلئے نہ صرف سیکورٹی اور خفیہ اداروں پر دباؤ ڈالا جائے بلکہ ان لاپتہ افراد کی بحفاظت بازیابی کو یقینی بنانے کےلئے ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

بقول ان کے ’ہمارے پیاروں کی گمشدگی اور ایک تسلسل کے ساتھ ملنے والی مسخ شدہ لاشوں نے ہمیں ذہنی کوفت اور اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے ہمیں خدشہ ہے کہ ریاستی اداروں کی جانب سے جبری طور پر لاپتہ کئے جانے والے افراد کو جانی نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔‘

’لہٰذا سپریم کورٹ کو لواحقین کی ذہنی کیفیت اور درد کو سمجھتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے اور جس طرح لیاری آپریشن میں تین لاپتہ بلوچ نوجوانوں کو مسلح تنظیم کے کارندوں کے طور پر پیش کیا گیا اس کا بھی نوٹس لینا چاہیئے اور ذمہ داران کے خلاف آئین و قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔‘

اسی بارے میں