’باہمی تجارت کا فروغ ضروری ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لاہور میں بھارت اور پاکستان کے صنعتکاروں اور تاجروں کی دو روزہ بزنس کانفرنس اس اتفاق رائے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ دونوں ملکوں میں امن اور دوستی کے لیے باہمی تجارت کا فروغ ناگزیر ہے۔

اس بزنس کانفرنس کا اہتمام پاکستان اور بھارت کے دو بڑے میڈیا گروپس جیو اور ٹائمز آف انڈیا نے کیا تھا۔

لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق اس دو روزہ بزنس کانفرنس میں تقاریر کے علاوہ پاکستان اور بھارت کے چوٹی کے صنعتکاروں اور تاجروں نے ایک دوسرے سے ملاقاتیں کیں، کاروباری مواقع تلاش کیے گئے اور مستقبل کی منصوبوں پر غور کیا گیا۔ بھارتی شرکاء نے واضح کیا کہ اگرچہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان نسبتاً ایک چھوٹی مارکیٹ ہے لیکن اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

بھارت کے ممتاز صنعتکار ادی گودریج نے کہا کہ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان انڈیا کے کاروباری افراد کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ پاکستان میں شدت پسندی کے حوالے سےایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک نئے ملک میں تجارت کرتے ہوئے کسی بھی تاجر کو تشویش ضرور لاحق ہوتی ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ وقت کے ساتھ یہ مسائل دور ہوجائیں گے۔

کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جب تک دونوں اطراف کے کاروباری حضرات کے مفادات کا خیال نہیں رکھا جائے گا تب تک تجارت کے فروغ کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔ لاہور چمبر آف کامرس کے صدر عرفان قیصر شیخ نے کہا کہ دنیا میں جہاں بھی پڑوسی ممالک تجارت کرتے ہیں تو اس سے علاقے میں اقتصادی ترقی ہوتی ہے۔

کانفرنس میں پاکستانی تاجروں اور صنعتکاروں نے جہاں ایک طرف انڈیا کی طرف سے عائد کیے گئے نان ٹیرف بیرئرز کو تنقید کا نشانہ بنایا وہیں یہ شکوہ بھی کیا گیا کہ پاکستانی کاروباری حضرات کو انڈین ویزے کے حصول میں بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر شرت سبھروال نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت نے ویزے جاری کرنے کے عمل کو آسان کرنے کا فیصلہ کیاہے۔

شرت سبھروال نے کہا کہ اب عام شہریوں کو تیس دن کے اندر ویزہ دیا جائے گا اور تاجروں کو اس سے بھی پہلے ویزہ دیدیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئی ویزہ پالیسی تیار ہے جس میں دونوں ملکوں کے تاجروں کو خصوصی سہولیات دی جائیں گی۔انہوں نے امید ظاہر کی اس ماہ کے اختتام پر اس پالیسی پر دستخط ہوجائیں گے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ لاہور میں ہونے والی اس بزنس کانفرنس کو اگرچہ اس لحاظ سے کامیاب قرار دیا جاسکتا ہے کہ اس میں دونوں ملکوں کے چوٹی کے صنعتکاروں و تاجروں بیوروکریٹس اور سیاستدانوں نےشرکت کی لیکن چونکہ یہ کانفرنس ایک نجی میڈیا گروپ کے تعاون سے ہوئی اس لیے دیگر میڈیا گروپس کے اخبارات اور نیوز چینلز نے اس کی مساویانہ کوریج نہیں کی۔

کل افتتاحی سیشن سے حکمران پیپلزپارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے دونوں ملکوں میں امن کی ضرورت پر زور دیا تھا اور کہا تھا کہ امن کی کوششوں کو ناکام بنانے والے عناصر کا راستہ روکنا ہوگا۔

آج کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن جماعت مسلم لیگ نون کے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ملکوں میں دوستی اور امن کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔

ایک دوسری اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو نفرتوں کا خاتمہ کرکے آگے بڑھنا ہوگا۔

اسی بارے میں