پشاور: عالم دین کی ہلاکت کے خلاف دھرنا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں مذہبی اور دینی جماعتوں نے صوبے کی بڑی دینی درس گاہ دارلعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مدرس اور عالم دین مولانا شیخ نصیب خان کی پراسرار ہلاکت کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا جس میں دینی مدارس کے ہزاروں طلباء نے شرکت کی۔

احتجاجی دھرنا منگل کو پشاور ہائی کورٹ کی عمارت کے سامنے مرکزی سڑک پر منعقد ہوا جس میں جمعیت علمائے اسلام (ف)، جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق گروپ، اشاعت توحید الاسلام اور اہل سنت و الجماعت کے رہنماؤں اور دینی مدارس کے طلباء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

پشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق مظاہرین نے ہائی کورٹ کے سامنے والی سڑک اور جی ٹی روڈ کو تقربناً دو گھنٹوں تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کیے رکھا جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اس موقع پر مظاہرین نے’الجہاد الجہاد ، قاتلو خون کا حساب دو، ناکام حکومت، قاتل حکومت مردہ باد اور مولانا نصیب خان کے قاتلوں کو فوری طور پرگرفتار کیاجائے‘ کے نعرے لگائے۔

دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے ملک میں ایک منصوبے کے تحت علماء اور عالم دین کو چن چن کر ہلاک کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مفتی شامزئی اور پھر شیخ مولانا حسن جان اور اب اس صوبے کے سب سے بڑے دینی مدرسے دارلعلوم حقانیہ کے شیخ نصیب خان کو ہلاک کیا گیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ مولانا شیخ نصیب خان کے قاتلوں کو فوری طورپر گرفتار کر کے انہیں کڑی سزا دی جائے اور اگر ان کا مطالبہ نہیں مانا گیا تو تمام مدارس کا اجلاس دوبارہ طلب کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

ادھر مولانا نصیب خان کے قتل کے خلاف صوبے کے دیگر شہروں اور اضلاع میں بھی احتجاجی مظاہرے منعقد کیےگئے جس میں قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ چند دن پہلے مولانا نصیب خان کو اکوڑہ خٹک جاتے ہوئے نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کرلیا تھا اور بعد میں ان کی لاش ملی تھی۔ تاہم ابھی تک کسی تنظیم نے اس ہلاکت کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

دوسری جانب شمالی وزیرستان میں طالبان کے حافظ گل بہادر گروپ نے بھی مولانا نصیب خان کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے ان کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

حافظ گل بہادر گروپ کے ترجمان احمداللہ احمدی نے کہا تھا کہ وہ مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مدُرس مولانا شیخ نصیب خان کی ہلاکت کا بدلہ پاکسانی سکیورٹی فورسز سے لیں گے۔

مولانا شیخ نصیب خان کا تعلق شمالی وزیرستان کے علاقہ شوہ سے تھا جبکہ ان کا دوسرا گھر افغانستان کی تحصیل برمل کے علاقے مرغہ میں بھی ہے۔ وہ ان دنوں اکوڑہ خٹک حقانیہ مدرسہ میں درس و تدریس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ مولانا شیخ نصیب خان کا حافظ گل بہادر اور ملاّ نذیر سے اچھے تعلقات تھے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دارالعلوم حقانیہ خیبر پختون خوا کا سب سے بڑا دینی مدرسہ سمجھا جاتا ہے اور اس مدرسے سے افغانستان کے اکثر طالبان کمانڈر فارغ التحصیل ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں