توہینِ عدالت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ستتر صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ سات رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس ناصر الملک نے تحریر کیا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے مقدمے میں دی جانے والی سزا سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔

عدالت نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ این آر او یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس سے متعلق عدالتی فیصلے کا جان بوجھ کر تمسخر اڑایا گیا۔

سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کے خلاف تفصیلی فیصلہ منگل کے روز اس وقت جاری کیا جب وہ برطانیہ کے پانچ روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہو چکے تھے۔

سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں بھی ایک مرتبہ پھر آئین کے آرٹیکل تریسٹھ ون جی کے ممکنہ اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں درج ہے کہ عدلیہ کا تمسخر اڑانے پر کوئی بھی رکن پارلیمان پانچ سال کے لیے نااہل ہوسکتا ہے۔

تفصیلی فیصلے میں واضح طور پر یہ نہیں لکھا گیا کہ آیا وزیر اعظم توہین عدالت کرنے پر نااہل ہوئے ہیں یا نہیں تاہم اس ضمن میں وکلاء کی رائے بھی منقسم ہے۔

ایک دھڑے کا کہنا ہے کہ تفصیلی فیصلے کے بعد وزیراعظم پر آئین کا مذکورہ آرٹیکل لاگو ہوتا ہے اور اب وہ وزیر اعظم نہیں رہے جبکہ دوسرے دھڑے کا کہنا ہے وزیر اعظم کو عدالت نے نااہل قرار نہیں دیا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے چھبیس اپریل کو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے مقدمے میں مجرم قرار دیتے ہوئے اُنہیں عدالت کے برخاست ہونے تک کی سزا دی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ستتر صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ وزیر اعظم کو توہین عدالت کے مقدمے میں سزا دینے والے سات رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس ناصر الملک نے تحریر کیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے اعلی ترین عہدیدار کی جانب سے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے سے پورا عدالتی نظام مفلوج ہوجائے گا۔

عدالت کا کہ بطور چیف ایگزیکٹیو یہ وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالتی فیصلے پر عمل کرتے۔

اعلی عدالت کے مطابق این آر او سے متعلق وفاق کی جانب سے نظرثانی کی درخواست مسترد ہونے کے بعد وزیر اعظم کے پاس عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں بارہا ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سوئس حکام کو مقدمات کھولنے کے لیے خط لکھیں گے جس کا انہوں نے جواب نہیں دیا۔

عدالت کے مطابق این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے وزیر اعظم کو دوبار سمری بھیجی گئی لیکن انہوں نے اس پر عمل درآمد نہیں کیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ توہین عدالت کے مقدمے کی کارروائی کے دوران وزیر اعظم نے سابق اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق کو اس وقت تبدیل کردیا جب وہ بطور استغاثہ ان پر جرح کرنا چاہتے تھے۔

آئین کےآرٹیکل سو کے مطابق صدر وزیر اعظم کی ہدایت پر اٹارنی جنرل مقرر کرتے ہیں، ایسا اقدام کرکے انہوں (وزیر اعظم) نے کیس خراب کرنے کی کوشش کی۔

فیصلے کے مطابق نئے اٹارنی جنرل عرفان قادر نے استغاثہ کے حق میں کوئی دلائل نہیں دیے اور انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔ عدالت کا کہنا ہے اس اس ضمن میں عدالت کو یکطرفہ معاونت ملی۔

واضح رہے کہ رواں برس چھبیس اپریل کے مختصر فیصلے کے بعد وزیر اعظم کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وہ تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اپیل دائر کریں گے۔

وزیرِاعظم کی جانب سے اس عدالتی فصیلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے بعد سپریم کورٹ کا آٹھ یا نو رکنی بینچ اس کی سماعت کرے گا۔

سپریم کورٹ میں اس وقت ججوں کی تعداد سولہ ہے جبکہ وزیر اعظم کی جانب سے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی صورت میں سات رکنی بینچ میں شامل ججز اپیل کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل نہیں ہوں گے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے مطابق نو میں سے تین ججوں نے اپیل کی سماعت کرنے والے بینچ میں شمولیت سے معذوری ظاہر کی۔ اس کے بعد اپیل کی سماعت کے لیے تین ایڈہاک اور ایڈشنل ججوں کی تعیناتی کا معاملہ اٹھایا گیا تاہم سپریم کورٹ اور مختلف بار ایسوسی ایشن کی جانب سےاُٹھائے گئے تحفظات کے بعد یہ معاملہ موخر کردیا گیا ہے۔

اسی بارے میں