’عہدہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وزیراعظم گیلانی نے سپریم کورٹ کی جانب سے توہین عدالت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری ہونے کے بعد کہا ہے کہ انہیں غیر آئینی طریقے سے عہدہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان سے برطانیہ سفر کے دوران طیارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے حوالے سے کہا کہ آئین کے آرٹیکل دس کے تحت شفاف ٹرائل ان کا حق ہے اور منصفانہ ٹرائل کے لیے تمام آئینی طریقے استعمال کریں گے۔

’میری اقتدار میں رہنے کی کوئی خواہش نہیں ہے لیکن اس معاملے کو انجام تک پہچانے کے لیے موجود تمام طریقے استعمال کریں گے۔‘

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے مقدمے میں دی جانے والی سزا سے متعلق تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ این آر او یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس سے متعلق عدالتی فیصلے کا جان بوجھ کر تمسخر اڑایا گیا۔

تفصلی فیصلے میں ایک مرتبہ پھر آئین کے آرٹیکل تریسٹھ ون جی کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں درج ہے کہ عدلیہ کا تمسخر اڑانے پر کوئی بھی رکنِ پارلیمان پانچ سال کے لیے نااہل ہوسکتا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم گیلانی پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ آئین میں وزیراعظم کو ہٹانے کا واضح طریقہ کا موجود ہے اور کوئی وزیراعظم کو عہدہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کر سکتا ہے۔

وزیراعظم کے بقول’ تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ان کے اہل یا نااہلی کا معاملہ پہلے قومی اسمبلی کی سپیکر اور بعد میں الیکشن کمشنر کے پاس جائے گا۔‘

’ہمیں یہاں وحیدہ شاہ کا معاملہ لازمی طور پر دیکھنا ہو گا جنہیں الیکشن کمیشن نے نااہل قرار دے دیا تھا لیکن بعد میں سندھ ہائی کورٹ نے فیصلہ روک دیا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ لیگ نون انہیں ہٹانے میں سنجیدہ ہے تو وہ پارلیمان سے مستعفیٰ ہوں۔

حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ نون کی جانب سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کے اعلان پر وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ پنجاب وفاق کی اکائی ہے اور اسے وفاقی اکائی ہونے کی حیثیت سے وفاقی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے اور اگر تحریک چلائی جاتی ہے تو بغاوت کے زمرے میں آئے گی۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے مقدمے میں دی جانے والی سزا سے متعلق تفصیلی فیصلے میں ایک مرتبہ پھر آئین کے آرٹیکل تریسٹھ ون جی کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں درج ہے کہ عدلیہ کا تمسخر اڑانے پر کوئی بھی رکنِ پارلیمان پانچ سال کے لیے نااہل ہوسکتا ہے۔

سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم گیلانی کو اپنا عہدہ چھوڑنے کے مطالبے میں شدت آئی ہے۔

ایک دھڑے کا کہنا ہے کہ تفصیلی فیصلے کے بعد وزیراعظم پر آئین کا مذکورہ آرٹیکل لاگو ہوتا ہے اور اب وہ وزیر اعظم نہیں رہے جبکہ دوسرے دھڑے کا کہنا ہے وزیر اعظم کو عدالت نے نااہل قرار نہیں دیا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے چھبیس اپریل کو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے مقدمے میں مجرم قرار دیتے ہوئے اُنہیں عدالت کے برخاست ہونے تک کی سزا دی تھی۔

ستتر صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ وزیر اعظم کو توہین عدالت کے مقدمے میں سزا دینے والے سات رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس ناصر الملک نے تحریر کیا ہے۔

تفصیلی فیصلے میں واضح طور پر یہ نہیں لکھا گیا کہ آیا وزیر اعظم توہین عدالت کرنے پر نااہل ہوئے ہیں یا نہیں تاہم اس ضمن میں وکلاء کی رائے بھی منقسم ہے۔

اسی بارے میں