پیپلز پارٹی کی عدلیہ پر تنقید اور تعریف

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرنے پر حکمران پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے عدلیہ کی تعریف کے ساتھ سخت تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

بدھ کی شام کو ایک نیوز کانفرنس میں وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے توہین عدالت کیس کا جو تفیصلی فیصلہ جاری کیا ہے اس میں وزیراعظم کی نااہلی کے بارے میں کوئی نئی بات نہیں ہے اور وہ عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا کا ایک حِصہ اور سیاسی مخالفین عدالتی فیصلے کی غلط تشریح کرتے ہوئے، وزیراعظم کی نا اہلی کی بات کرتے ہوئے ان کے استعفے کا جو مطالبہ کر رہے ہیں وہ نا مناسب ہے۔ ان کے بقول عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں وزیراعظم کی نااہلی کے بارے میں کوئی وضاحت کرنے کے بجائے اپنے مختصر حکم کا ذکر کیا ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے بتایا کہ وزیراعظم کے وکیل جلد اپیل دائرہ کریں گے اور اپیل کے فیصلے تک سب کو انتظار کرنا چاہیئے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق نیوز کانفرنس میں راجہ پرویز اشرف نے تو عدلیہ کی تعریف کرتے ہوئے ان کا شکریہ بھی ادا کیا لیکن ان کے ہمراہ ایک اور وفاقی وزیر نذر محمد گوندل نے عدالتی فیصلے پر تنقید کی اور کہا کہ سپریم کورٹ نے بدنام زمانہ نظریہء ضرورت کا سہارا لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد آئین کی شق دس الف میں تمام ملزمان کو’فیئر ٹرائل‘ دینا لازم ہے اور اعتزاز احسن نے جو نکتہ اٹھایا تھا کہ مدعی منصف نہیں بن سکتے، اس کا جواب دینے کے لیے سپریم کورٹ نے ایک بار پھر نظریہء ضرورت کا سہارا لیا ہے، جس کی جھلک تفصیلی فیصلے کے پیرا گراف نمبر ستائیس میں واضح ہے۔

انہوں نے کہا کہ تین بار وزیراعظم عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور عدالت نے ان سے جرم قبول کرنے یا انکار کرنے کے بارے میں ایک سوال تک نہیں پوچھا، جو کہ فوجداری قانون کے خلاف ہے۔

دونوں وفاقی وزراء نے پنجاب اسمبلی سے جنوبی پنجاب کے نام سے نیا صوبہ بنانے اور بہاولپور کی پرانی حیثیت کی بحالی کے بارے میں قرارداد کی منظوری کو بہت اہم پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ یہ عوام کی فتح اور ان کی جماعت کے موقف کی تائید ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ چند روز قبل جب ان کی جماعت نے قومی اسبلی سے جنوبی پنجاب کے صوبے کی حق میں قرارداد کثرت رائے سے منظور کرائی تھی تو ان کے سیاسی مخالفین نے کہا تھا کہ یہ عجلت میں منظور کرائی گئی ہے اور اس کا مقصد سیاسی طور پر نمبر بنانا ہے۔ لیکن ان کے بقول ان کے مخالفین نے اب ان کے موقف کی تائید کردی ہے۔

اسی بارے میں