بلوچستان: اساتذہ کا احتجاج، ساٹھ گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس نے لاٹھی چارج اورشیلنگ کے بعد احتجاج کرنے والے ساٹھ اساتذہ کو گرفتار کرلیا ہے۔

یہ اساتذہ محکمۂ تعلیم میں سینیئر پوسٹوں پر جونیئر اہلکاروں کی تعیناتی خلاف احتجاج کررہے تھے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق آل ٹیچرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے محکمۂ تعلیم میں سینیئر پوسٹوں پر جونئیرافراد کی تعیناتی کے خلاف جمعرات کو بھی احتجاج کیا جس میں اساتذہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ہڑتالی اساتذہ کے مطابق ان کا احتجاج مطالبات تسلیم ہونے تک جاری رہے گا۔

احتجاج کے بعد ایک سو تیس کے قریب اساتذہ نے پریس کلب کے سامنے کیمپ میں تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کردی۔

اس سے قبل بدھ کی رات پولیس نے وزیراعلی ہاوس کے سامنے دھرنا دینے کی کوشش کرنے کے دوران ساٹھ اساتذہ کو گرفتار کر لیا۔ اس دوران پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسوگیس کا بھی استعمال کیا جس میں بیس اساتذہ زخمی بھی ہو گئے۔

اس بارے میں آل ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صوبائی رہنما سید مجیب شاہ نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران صوبائی وزراء کی جانب سے شفارش اور اقرباء پروری کی بنیاد پر گریڈ اٹھارہ اور انیس کی پوسٹوں پر گریڈ پندرہ اور سولہ کے افراد کو تعینات کیاگیاجس کی وجہ سے صوبے کا تعلیمی نظام تباہ ہوگیا۔

گرفتاری سے قبل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے آل ٹیچرزایسوسی ایشن کے مرکزی قائد حاجی عبدالغفار کدیزی نے مطالبہ کیا کہ سینیئر پوسٹوں پر ذمہ دار افسران کو تعینات کیا جائے۔

ان کے مطابق موجودہ وزراء اس بات سے اتفاق نہیں کرتے بلکہ وہ بضد ہیں کہ تمام پوسٹوں پر ان کے بندے تعینات ہونے چاہیئیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ سال نومبر میں بھی احتجاج کیا تھا جس پر وزیراعلی بلوچستان نے ایک کمیٹی بنائی تھی اور اس کمیٹی نے ہمارے مطالبات تسلیم کیےتھے تاہم ان پر آج تک عملدرآمد نہیں ہوا۔

دوسری جانب صوبائی حکومت کی جانب سے اساتذہ کی گرفتاریوں پر کوئی واضع موقف سامنے نہیں آیا جبکہ گرفتار اساتذہ کو مقامی عدالت کے حکم پر ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ منتقل کر دیا۔

اسی بارے میں