گیلانی کیمرون ملاقات، تجارت و تعاون بڑھانے پر اتفاق

ملاقات کے بعد دو وزراء اعظم ٹین ڈاؤنگ سٹریٹ کے باہر فوٹو گرافروں کو ہاتھ ہلانے کے لیے باہر آئے تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی اور برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے پاکستان اور برطانیہ کی باہمی تجارت کے حجم کو سنہ دو ہزار پندرہ تک دو اعشاریہ پانچ فیصد تک بڑھانے کے لیے ایک نقشۂ راہ طے کیا ہے۔

تجارت کو بڑھانے کے لیے یہ نقشۂ راہ جمعرات کو دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان لندن میں ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ میں ہونے والی ملاقات کے دوران طے پایا۔

اس ملاقات میں پاکستان کی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر، وزیرِ داخلہ رحمن ملک اور پاکستانی وفد میں شامل دیگر حکام بھی شامل تھے۔

وزیراعظم گیلانی اور وزیراعظم کیمرون کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ملاقات میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سٹریٹجک ڈائیلاگ کی پیشرفت پر غور کیا گیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سنہ دو ہزار گیارہ میں شروع ہونے والے ان مذاکرات کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔

ملاقات کے دوران سٹریٹجگ ڈائیلاگ میں شامل پانچ شعبوں تجارت، معاشی ترقی، ثقافتی تعاون، سکیورٹی اور تعلیم میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون میں توسیع کا بھی جائزہ لیا گیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ برطانوی وزیراعظم نے یقین دلایا کہ تعلیم کے حصول اور تلاش معاش کے لیے جائز طریقوں سے برطانیہ آنے والوں کے برطانیہ کے دروازے کھلے ہیں۔

دنوں ملکوں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

پاکستانی وزیراعظم نے اپنے برطانوی ہم منصب کو امریکہ سے پاکستان کے تعلقات اور اس ضمن میں پاکستان کی پارلیمان سے منظور ہونے والی قراردادوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

اس موقع پر ڈیوڈ کیمرون نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لیے پاکستان کی حمایت کرنے کا بھی اعلان کیا۔

وزیراعظم کے حق اور مخالفت میں مظاہرے

اس ملاقات کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ نون کے کارکنوں نے وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کے حق اور مخالفت میں مظاہرے کیے۔

نامہ نگار فراز ہاشمی کے مطابق مسلم لیگ کے کارکنوں نے گو گیلانی گو کے نعرے لگائے جبکہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے صدر آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کے حق میں نعرے لگائے۔

اس موقع پر برطانیہ کی شیعہ تنظمیوں کے کارکنوں نے بھی ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کے سامنے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرے میں عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور ان پر طالبان کے خلاف نعرے درج تھے۔

شیعہ علماء یورپ کے سیکریٹری اطلاعات عظمت عباس نے مظاہرے کے دوران بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو اہل تشیع کے خلاف بین الاقوامی سازش جاری ہے دوسری طرف پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیز میں کچھ ایسے انتہا پسند عناصر گھس گئے ہیں جو اپنے سوا کسی کو مسلمان تسلیم کرنے کے حق میں نہیں ہے۔

اسی بارے میں