باڑہ سے ڈھائی لاکھ افراد کی نقل مکانی

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں کشیدگی برقرار ہے اور تحصیل باڑہ سے لگ بھگ ساڑھے تین ماہ میں ڈھائی لاکھ افراد نقل مکانی کر کے پشاور اور نوشہرہ کے قریب جلوزئی کیمپ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ نے چند روز پہلے یہ اعلان کیا تھا کہ تحصیل باڑہ میں شلوبر قوم اپنے علاقے مکمل طور پر خالی کر دیں کیونکہ اس کے بعد اس علاقے میں فوجی آپریشن شروع کر دیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان چند روز میں اگرچہ دو سو خاندان نقل مکانی کرکے جلوزئی کیمپ پہنچے ہیں لیکن یہ سب پہلے سے رجسٹرڈ تھے۔

قدرتی آرفات سے نمٹنے نے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے میں آئی ڈی پیز کے انچاج فیض محمد فیضی نے بی بی سی کو بتایا کہ تحصیل باڑہ سے نقل مکانی کا سلسلہ بیس جنوری سے جاری ہے اور سب سے پہلے شلوبر کا علاقہ خالی کرایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر شلوبر قوم کے تقریبًا دس ہزار خاندان رجسٹرڈ ہوئے تھے لیکن املاک کی حفاظت کے لیے ہر گھر میں کچھ لوگ وہیں رہ گئے تھے۔ حالیہ اعلان اسی لیے کیا گیا ہے کہ تاکہ باقی رہ جاگنے والے لوگ بھی یہ علاقہ مکمل طور پر خالی کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین ماہ میں پچاس ہزار خاندان جن کی تعداد انفرادی طور پر ڈھائی لاکھ بنتی ہے جلوزئی کیمپ میں رجسٹرڈ ہوئے ہیں لیکن ان میں سے چھ ہزار خاندان کیمپ میں رہ رہے ہیں جبکہ چار ہزار خاندان پہلے سے مختلف علاقوں سے نقل مکان کرکے کیمپ پہنچے تھے۔

سیکیورٹی اداروں کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ اگرچہ تحصیل باڑہ اور اس کے مضافات میں فوجی آپریشن تو سن دو ہزار نو سے جاری ہے لیکن حالیہ اعلان کے بعد کوئی تازہ کارروائی ابھی تک شروع نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی فوجی آپریشن شروع کیا جائے گا یہ پہلے سے جاری کارروائی کا تسلسل ہوگا۔

مقامی لوگوں کے مطابق باڑہ تحصیل اور اس کے مضافات میں کشیدگی تو پائی جاتی تھی لیکن اب علاقے خالی کرانے کا مقصد ان علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی نقل و حمل ہے ۔ خیبر ایجنسی کے مختلف مقامات پر سیکیورٹی فورسز کے قافلوں پر اکثر حملے کیے جاتے رہے ہیں جس میں جانی نقصانات بھی ہوئے ہیں۔

خیبر ایجنسی میں بدھ روز تیراہ کے مقام پر ہیلی کاپٹروں سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے گئے تھے لیکن سرکاری سطح پر کسی جانی نقصان کی اطلاع کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ سنڈپال کے مقام پر لشکر اسلام اور زخہ خیل قومی لشکر کے درمیا ن جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس جھڑپ میں ہلاکتوں کی اطلاع نہیں ہے جبکہ سنڈپال کے اہم مورچے پر اب بھی لشکر اسلام کا قبضہ ہے۔ لشکر اسلام حکومت مخالف گروہ ہے جبکہ قومی امن لشکر کو حکومت کی حمایت حاصل ہے۔

اسی بارے میں