سینیٹ:’اختیارات منتقل نہ کرنے پر احتجاج‘

تصویر کے کاپی رائٹ other

اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کردہ ادارے اور اختیارات تاحال وفاق کے پاس رکھنے کے خلاف اپوزیشن کے ساتھ حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے میاں رضا ربانی سمیت حکومت کی دو اتحادی جماعتوں کا ایوان بالا سینیٹ میں سخت احتجاج کے بعد واک آؤٹ، کورم ٹوٹ گیا اور حکومت کارروائی معطل کرنے پر مجبور ہوگئی۔

سینیٹ کے چیئرمین سید نیئر بخاری کی صدارت میں اجلاس کے دوران بین الصوبائی وزارت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نذر محمد گوندل نے کہا کہ ملیریا، ٹی بی، ایڈز اور پولیو پر کنٹرول کرنے کے پروگرام صوبوں کو منتقل کیے گئے لیکن صوبوں کی جانب سے تحریری اجازت کے بعد وفاق نے جاری رکھا ہوا ہے۔

جس پر عوامی نیشنل پارٹی کے زاہد خان نے کہا کہ آئین کے تحت صوبوں کو منتقل کردہ پروگرام ایک خط کی بنا پر وفاق اپنے پاس نہیں رکھ سکتا اور یہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔

حکمران پیپلز پارٹی کے میاں رضا ربانی نے کہا کہ اگر صوبوں نے خط لکھا تو یہ معاملہ مشترکہ مفادات کی کونسل میں لے جانا چاہیے تھا اور ایک انتظامی حکم کے تحت ایسا نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ جب صوبوں کو محکمہ صحت اور اس سے ملحقہ ادارے اور پروگرام صوبوں کو منتقل کیے جا رہے تھے تو عمل درآمد کمیشن کے سامنے سب سے زیادہ مخالفت صحت کے وفاقی سیکرٹری نے کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی امدادی ادارے ان کے پاس بھی آئے تھے اور بدقسمتی سے وہ کچھ سیاستدانوں کو بھی ساتھ لائے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ امدادی ادارے وزیراعظم کے پاس بھی گئے اور صوبوں کو منتقلی رکوانے کی کوشش کی لیکن عمل درآمد کمیشن نے ایسا ہونے نہیں دیا۔

ان کے بقول سندھ کو بعض ہسپتال منتقل نہیں کیے جا رہے ہیں اور یہ بھی کسی کے مفادات کی خاطر ایسا ہو رہا ہے۔

رضا ربانی نے تجویز پیش کی کہ یہ آئین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور اس کو دیکھنے کے لیے ایوان کی خصوصی کمیٹی بنائی جائے کیونکہ اٹھارویں آئینی ترمیم کا تحفظ کرنا ایوان کا فرض اور حق بنتا ہے۔

رضا ربانی کی تجویز کی اپوزیشن اور حکومت کی اتحادی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے تائید کی۔ لیکن چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اس پر وزارت قانون سے رائے لی جائے گی اور مزید غور جمعرات کو ہوگا۔

جس پر میاں رضا ربانی، اے این پی، ایم کیو ایم اور بلوچستان کے سینیٹرز نے سخت احتجاج کیا تو وفاقی وزیر نذر محمد گوندل نے کہا کہ عالمی امدادی اداروں سے معاہدہ ہے اور ان سے امداد لی جا رہی ہے اس لیے یہ پروگرام وفاقی سطح پر چلانے ہوں گے۔

وفاقی وزیر کی بات پر مزید احتجاج ہوا فریقین نے کہا کہ عالمی امدادی اداروں کے نمائندوں کی فرمائش پر آئین کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے۔

اے این پی کے الیاس بلور نے کہا کہ جب تک وہ زندہ ہیں اٹھارویں آئینی ترمیم کے خلاف وہ کوئی بات نہیں سنیں گے۔

ان کے بقول آئین کے تحت صوبوں کو منتقل کرد معاملات مشترکہ مفادات کی کونسل بھی وفاق کوواپس نہیں دے سکتی۔

بلوچستان کے سینیٹر حاصل بزنجو نے کہا کہ ایک لابی ہے جو اختیارات صوبوں کو منتقل کرنے نہیں دے رہی۔ ان کے بقول ایک وفاقی وزیر نے اٹھارویں آئینی ترمیم کو ملک کے لیے تباہ کن قرار دے چکے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ آئین کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات کوئی واپس نہیں لے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کیوں نہیں کہتی کہ انہیں اٹھارویں ترمیم انہیں قبول نہیں؟

اپوزیشن لیڈر اسحٰق ڈار نے کہا کہ وہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو سزا ہونےکے بعد کابینہ کو بھی نہیں مانتے اور مسلسل احتجاج کر رہے ہیں لیکن یہ ایسا معاملہ ہے کہ ان کا بولنا لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا پاکستان اتنا محتاج ہوگیا ہے کہ امداد کی خاطر آئین کی خلاف ورزی کریں گے؟

انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت صوبوں کو منتقل کردہ اختیارات کے تحت اب بھی بارہ معاملات ایسے ہیں جن پر پنجاب حکومت کا وفاق سے اختلاف چل رہا ہے۔

ان کے بقول حکومت خلاف آئین کام کرنے کی عادی ہو چکی ہے۔ انہوں نے خصوصی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا لیکن چیئرمین سینیٹ نے پھر بھی اُسے نظر انداز کرتے ہوئے مؤخر کر دیا۔

جس پر اپوزیشن کی مسلم لیگ (ن)، جمیعت علماء اسلام(ف)، نیشنل پارٹی اور حکمران جماعت کے میاں رضا ربانی اور دیگر کے علاوہ اے این پی اور ایم کیو ایم کے اراکین نے واک آؤٹ کیا۔

جس کی وجہ سے کورم ٹوٹ گیا اور اس کی نشاندہی زاہد خان نے کی۔ اراکین پورے نہیں ہوئے تو نصف گھنٹے کے لیے کارروائی معطل کرنی پڑی۔ دوبارہ جب اجلاس شروع ہوا تو ایک سو چار اراکین کے ایوان میں صرف گیارہ اراکین موجود تھے اور اس لیے مزید کارروائی جمعرات کی صبح تک ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں