سندھ: فائرنگ سے صحافی اورنگزیب تنیو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جمعہ کو کراچی پریس کلب کے سامنے بھی صحافیوں نے احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ میں ایک صحافی کو بھائی اور دوست کے ہمراہ قتل کیے جانے کے واقعے کے خلاف سندھ کے مخلتف شہروں میں صحافیوں نے احتجاج کیا ہے۔

قتل کا یہ واقعہ جمعرات کی شب شہداد کوٹ ضلع کے علاقے لالو رائنک میں پیش آیا ہے۔

کراچی، حیدرآباد، سمیت دیگر شہروں میں صحافیوں نے اپنے ساتھی کی ہلاکت پر غم و عضے کا اظہار کیا۔

کراچی میں احتجاج مظاہرے کی قیادت کے یو جے دستور کے رہنما عامر لطیف اور پریس کلب کے سابق صدر امتیاز فاران نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات قابلِ حیرت ہے کہ اس صحافی نے اپنی زندگی کو لاحق خطرات کے بارے میں پولیس حکام کو آگاہ کیا مگر پھر بھی کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی تنازعات میں صحافیوں کو بھی لپیٹ میں لایا جارہا ہے جبکہ اُن کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اگر حکومت صحافیوں پر حملے میں ملوث کسی ایک مجرم کو بھی سزا دیتی تو یہ واقعات رک جائیں گے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سندھی نیوز چینل کے ٹی این کے رپورٹر اورنگزیب تنیو اپنے بھائی رستم اور دوست دیدار علی کے ساتھ اپنے دفتر میں موجود تھے کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے دفتر کے اندر گھس کر فائرنگ کی، جس میں وہ موقعے پر ہلاک ہوگئے۔

اس واقعے کے بعد لالو رائنک قصبے میں فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، بعد میں ایس ایس پی کی قیادت میں پولیس نے پہنچ کی لاشیں ہپستال پہنچائیں۔

ایس ایس پی شہداد کوٹ اظفر مھیسر نے بی بی سی کو بتایا کہ چند روز تنویر تنیو نامی نوجوان نے خوشبو مغیری نامی لڑکی سے پسند کی شادی کی تھی، جس پر لڑکی کے رشتے دار اور قبیلہ ناراض تھا۔

سندھ کے کئی علاقوں میں دوسرے قبیلے میں شادی قابل قبول نہیں ہے، اس لیے نوجوان جوڑوں کو عدالتوں سے رجوع کر کے شادی کرنی پڑتی ہے، یہ نوجوان اس حوالے سے مقامی سندھی پریس کا بھی سہارا لیتے ہیں۔

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق مقتول صحافی اورنگزیب تنیو نے اپنے ادارے کو بتایا تھا کہ خوشبو اور اور تنویر کے گھر چھوڑنے کے بعد علاقے میں کشیدگی ہے، انہوں نے پولیس کو کئی بار صورتحال سے آگاہ کیا اور کہا کہ کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

ایس ایس پی شہداد کوٹ اظفر مھیسر کا دعویٰ ہے کہ خوشبو اور تنویر کا معاملہ دونوں برداریوں کے معززین نے مذاکرات کے ذریعے حل کر دیا تھا، ان کی اطلاعات کے مطابق خوشبو مغیری والدین کے پاس ہے، تاہم مغیری برادری کے جرائم پیشہ افراد نے یہ کارروائی کی ہے۔

پولیس نے تیس کے قریب مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

دوسری جانب مقتول صحافی اورنگزیب تنیو کی نمازِ جنازہ پولیس کے پہرے میں ادا کر دی گئی ہے۔

سندھ کے مختلف شہروں حیدرآباد، قمبر، شہداد کوٹ اور کشمور میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں، جن میں ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

جمعہ کی شام کو کراچی پریس کلب کے سامنے بھی صحافی نے احتجاج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں