بارہ مئی:پانچ سال بعد بھی انصاف نہیں ملا

shujjalawyers تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شجاع کے گھر والے اب حصول انصاف سے مایوس ہوچکے ہیں۔

پانچ سال پہلے آج ہی کے دن چیف جسٹس کے استقبالیہ جلوس میں شامل ایک نوجوان شجاع الرحمان بھی تھے جو ملیر ہالٹ کے قریب گولی لگنے سے ہلاک ہوگئے۔

شجاع نے پسماندگان میں اپنی والدہ اور بہن علاوہ چار بھائیوں کو بھی سوگوار چھوڑا ہے۔ عدلیہ کی آزادی اور بحالی کی تحریک میں جان دینے والے اس نوجوان کے گھروالے اب حصول انصاف سے مایوس ہوچکے ہیں۔

شجاع کے بھائی سیف الرحمان کا کہنا ہے کہ وہ تحریک ایک شخص کی نوکری بچانے کے لیے تھی انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے بھائی کی جگہ چیف جسٹس کا بیٹا ارسلان ہوتا تو شاید اس کا فیصلہ ہوجاتا۔

انہوں نے شکایت کی کہ آج تک چیف جسٹس ان سے تعزیت کے لیے نہیں آئے، وہ بےنظیر بھٹو کی تعزیت کے لیے تو چلے جاتے ہیں مگر عام لوگوں کے لیے نہیں آتے۔ سیف الرحمان نے کہا کہ انہوں نے اب یہ معاملہ اللہ کے سپرد کردیا ہے ۔

ملیر بار سے نکلنے والے جلوس میں شریک جماعتِ اسلامی کراچی کے نائب امیر برجیس احمد نے اس دن کا حال بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان پر پانچ اطراف سے حملہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ چار گھنٹے تک گولیوں کی بوچھاڑ میں گھرے رہے اور اس دوران کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ ایک ایمبولینس کا ڈرائیور بھی مارا گیا۔

دوسری جانب اس وقت سندھ ہائی کورٹ بارکےصدرابرارحسن جن کی دعوت پر چیف جسٹس کراچی آئے تھے انہوں نے تسلیم کیا کہ لوگوں کا خون رائیگاں گیا کیونکہ انہیں اناف نہیں مل سکا۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کی سات رکنی بینچ نے کوشش کی مگر وہ بینچ بھی کام نہیں کرسکی کیونکہ نومبرکی ایمرجنسی میں ججز کو فارغ کردیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بی بی سی اے بات کرتے ہوئے اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید کا کہنا تھا کہ وہ اس دن کو بھول نہیں سکتے البتہ مصلحت کے تحت وہ خاموش رہتے ہیں کیونک اس سے شہر میں مزید خون خرابہ بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ شہر کی تمام جماعتیں ایم کیوایم سے نالاں ہیں۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی حیدرعباس رضوی کا کہنا ہے کہ بارہ مئی ملک کی سیاسی تاریخ کا سیاہ دن ہے اور یہ اسٹیبلشمنٹ کی سازش تھی جس میں دیگر جماعتوں کی طرح ان کی جماعت بھی پھنس گئی ۔

ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات کی تحقیقات ہوچکی ہیں اور بارہ مئی کو ایم کیوایم کے چودہ کارکنان بھی مارے گئے تھے۔

یاد رہے کہ آج پانچ سال قبل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی کراچی آمد پر اس وقت کی انتظامیہ نے رکاوٹیں کھڑی کرکے پورے شہر کو مفلوج کردیا تھا اوراسی دوران شہر میں تشدد کے متعدد واقعات میں چالیس سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

دوسری جانب کراچی میں جماعتِ اسلامی کے زیر اہتمام ایک قومی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے علاوہ تمام سرکردہ سیاسی و مذہبی جماعتوں نے شرکت کی اس کانفرنس میں بارہ مئی کے حوالے سے بارہا چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

اس کانفرنس میں جماعتِ اسلامی کے علاوہ تحریکِ انصاف ، مسلم لیگ نون ، اے این پی ، جمیعتِ علمائے اسلام ف ، جمیعتِ علمائے اسلام س ، جمیعتِ علمائے پاکستان ، جماعۃ الدعوۃ سمیت تمام چھوٹی بڑی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے شرکت کی۔

جماعتِ اسلامی کے امیر منور حسن نے بتایا کہ پیپلزپارٹی کو مدعو کیا گیا تھا مگر ان کی جانب سے کوئی نہیں آیا تاہم انہوں نے ایم کیو ایم کو شرکت کی دعوت نہیں دی تھی کیونکہ وہ ایم کیو ایم کو بارہ مئی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

کانفرنس میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ بارہ مئی دوہزار سات کے واقعات کے ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں سزا دی جائے۔

کراچی بار، ملیر بار اور سندھ ہائی کورٹ سمیت تمام وکلاء نے ہفتے کے روز عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کا دن ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔

اسی بارے میں