مسلم لیگ نون اور مسلم لیگ ہم خیال میں اتحاد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مسلم لیگ نون اور مسلم لیگ ہم خیال میں انتخابی اتحاد ہوگیا ہے اور دونوں جماعتوں میں جو فارمولا طے پایا ہے اس کے تحت مسلم لیگ ہم خیال کو عام انتخابات میں گیارہ فیصد نشستیں دی جائیں گی۔

اس بات کا اعلان مسلم لیگ نون اور مسلم لیگ ہم خیال کے رہنماؤں کے درمیان میں ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا۔

رائے ونڈ میں حامد ناصر چھٹہ ، ہمایوں اختر خان ، گوہر ایوب اور کشمالہ طارق سمیت مسلم لیگ ہم خیال کے دیگر رہنماؤں نے مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف سے ملاقات کی۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق مسلم لیگ نون کے اقبال ظفر جھگڑا اور مسلم لیگ ہم خیال کے ہمایوں اختر خان نے انتخابی اتحاد کے معاہدے پر دستظ کیے۔

مسلم لیگ ہم خیال کے رہنما ہمایوں اختر خان نے میڈیا کو بتایا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے اس کے تحت قومی اسمبلی میں دو سو بہتر نشستوں میں سے تیس نشسیں مسلم لیگ ہم خیال کو دی جائیں گی جو گیارہ فیصد بننتی ہے۔

ہمایوں اختر خان نے بتایا کہ اسی طرح ہر صوبے میں مسلم لیگ ہم خیال کے حصہ گیارہ فیصد نشستیں آئیں گی۔

مسلم لیگ ہم خیال کے رہنما نے بتایا کہ عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے ہم خیال کے امیدواروں کی بنیاد پر سینیٹ اور مخصوص نشستوں پر نمائندگی ملی گی۔ ان کے بقول پارلیمانی بورڈ اور منشور کمیٹی میں انہیں مناسب نمائندگی دی جائے گی۔

ہم خیال گروپ ارکانِ اسمبلی عام انتخابات میں مسلم لیگ (ق) کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے اور بعد میں انہوں نے اپنا ایک الگ دھڑ بنا لیا۔

مسلم لیگ نون کے رہنما اقبال ظفر جھگڑا نے صحافیوں کو بتایا کہ مسلم لیگ ہم خیال نے اہم معاملات پر پارلیمان کے اندر ان کی جماعت کا ساتھ دیا اور اب مل کر کام کریں گے۔

اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ انہیں یہ امید ہے کہ دونوں جماعتوں میں جس خوش گوار ماحول میں یہ معاہدہ ہوا ہے اس کے بعد ہم مل جل کر اس ملک کی سالمیت اور بقاء کے لیے اکٹھے نظر آئیں گے۔

مسلم لیگ ہم خیال کے رہنما ہمایوں خان نے بتایا کہ ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ ان کی جماعت کے امیدوار مسلم لیگ نون کے انتخابی نشان پر انتخاب میں حصہ لیں گے یا پھر ان کا اپنا انتخابی نشان ہوگا۔

ہمایوں اختر نے وضاحت کی دیگر سیاسی جماعتیں بھی اس انتخابی اتحاد کا حصہ بنیں گی اور اس وقت ہی یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ کس انتخابی نشان پر انتخاب لڑیں۔

اسی بارے میں