کراچی میں پیش امام قتل

کراچی میں پولیس(فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption واقعہ کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری علاقے میں تعینات کردی گئی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس کے مطابق ہدف بنا کر قتل کیے جانے کی ایک واردات میں ایک عالم دین اپنے ڈرائیور سمیت ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ واردات اتوار کو شہر کے ضلع شرقی میں اس وقت پیش آئی جب مولانا اسلم شیخوپوری اپنی گاڑی میں شہر کے مضافات میں واقع گلشنِ معمار کی جانب گامزن تھے۔

کراچی سے نامہ نگار ارمان صابر نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں مولانا اسلم اور ان کا گارڈ سفرین موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ ان کے دو مزید گارڈ وزیر علی اور نجم الدین کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

نیوٹاؤن کے تھانیدار انعام اللہ جوکھیو کا کہنا ہے کہ ملزمان کی تعداد چار تھی جنہوں نے اپنے ہدف پر فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔

ایس ایچ او انعام اللہ کا کہنا ہے کہ اس واردات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمان نے پہلے ریکی کی اور پھر منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا۔

انہوں نے اس واردات کو ’ٹاگٹ کلنگ‘ قرار دیا اور کہا کہ بظاہر یہ فرقہ واریت کے زمرے میں آتی ہے۔

پولیس کے بقول دونوں پیروں سے معزور مولانا اسلم شیخوپوری بہادرآباد کے ایک مدرسے میں درس دینے کے بعد اپنی رہائش گاہ گلشنِ معمار کی جانب سفر کر رہے تھے جب ان پر فائرنگ کی گئی۔

وہ گلشنِ معمار کی ایک مسجد میں پیش امام تھے۔ ان کی میت گلشنِ معمار پہنچنے کے بعد لوگ جمع ہوگئے جن پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں تین مزید افراد زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال پہنچایا گیا تاہم علاقے میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا۔

واقعہ کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری علاقے میں تعینات کردی گئی ہے۔

اسی بارے میں