’شدت پسند ایف سی کی وردی استعمال کرتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تعینات نیم فوجی ملیشیا فرنٹیئر کور یعنی ایف سی کے سربراہ نے کہا ہے کہ بعض شدت پسند ایف سی کی وردیاں پہن کر لوگوں کو اغوا کرنے میں ملوث ہیں۔

پیر کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے بلوچستان میں بدامنی اور لاپتہ افراد سے متعلق درخواستوں اور از خود نوٹس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران ایف سی کے سربراہ میجر جنرل عبیداللہ خان نے عدالت کو بتایا کہ اُن کا ادارہ بھی دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ملکر لاپتہ افراد کو تلاش کر رہا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت یہ الزام عائد کرتی ہے کہ صوبے میں لوگوں کو اغوا کرنے کے نوے فیصد سے زیادہ واقعات میں ایف سی کے اہلکار ملوث ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ آئی جی ایف سی اور بلوچستان کی حکومت کے لاپتہ افراد سے متعلق بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔

سماعت کے دوران ایک نجی ہوٹل کے کلوز سرکٹ کیمرے سے حاصل کردہ ویڈیو بھی دیکھائی گئی جس میں ایف سی کے اہلکار تین افراد کو اغوا کرنے کے بعد ایف سی کی گاڑیوں میں بیٹھا کر لیجاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

آئی جی ایف سی نے اس فوٹیج کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان افراد کے اغوا میں ایف سی کے اہلکار ملوث ہیں اور اس کے علاوہ جو گاڑی استعمال کی گئی ہے وہ ایف سی کی نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اُان کا ادارہ جب بھی کوئی کارروائی کرتا ہے تو عمومی طور پر دو گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت میں ایک پولیس اہلکار کا بیان بھی پڑھ کر سُنایا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ان تین افراد کو ایف سی کے اہلکاروں نے اغوا کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایف سی سے صوبے میں اُن کی گاڑیوں کی نقل حرکت سے متعلق رپورٹ طلب کی ہے جو ابھی تک فراہم نہیں کی گئی: راؤ ہاشم

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کا مقدمہ بجلی روڈ پولیس سٹیشن میں درج ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف سی پر پہلے اُنگلیاں نہیں اُٹھتی تھیں اب تو ایسے معاملات کی تمام تر ذمہ داری ایف سی پر ڈالی جا رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اداروں کا احترام ختم ہو رہا ہے اور اعتماد کا بھی شدید فقدان نظر آ رہا ہے۔

میجر جنرل عبیداللہ کا کہنا تھا کہ گُزشتہ پندرہ ماہ کے دوران شدت پسندوں نے ایف سی کے اہلکاروں اور تنصیابات پر آٹھ سو سے زائد حملے کیے اور ان مقدمات میں سے کسی ایک مقدمے کا بھی سراغ نہیں لگایا جا سکا۔

اُنہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیمیں ایف سی پر حملوں کی ذمہ داریاں قبول کر رہی ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں سے کوئی انکار نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ جب پولیس رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے لاپتہ افراد کی بازیابی میں ناکام رہیں تو پھر کس سے جواب طلب کیا جائے۔

بلوچستان پولیس کے سربراہ راؤ ہاشم کا کہنا تھا کہ پولیس نے ایف سی سے صوبے میں اُن کی گاڑیوں کی نقل حرکت سے متعلق رپورٹ طلب کی ہے جو ابھی تک فراہم نہیں کی گئی۔

عدالت نے تین لاپتہ ہونے والے افراد کی عدم بازیابی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے لیے ان افراد کی بازیابی زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

ایف سی اور بلوچستان پولیس کے سربراہوں نے لاپتہ ہونے والے ان تین افراد سے متعلق جواب داخل کرروانے کے لیے سپریم کورٹ سے مزید مہلت مانگ لی۔عدالت نے اس مقدمے کی سماعت اکیس مئی تک کے لیے ملتوی کر دی۔

دریں اثناء قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے قومی اسمبلی کے ارکان پر مشتمل آٹھ رکنی خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے جو لاپتہ افراد سے متعلق درخواستوں اور واقعات کی تفتیش کرے گی اور ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔

اس خصوصی کمیٹی میں قومی اسمبلی میں موجود تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے ارکان شامل ہیں۔ قومی اسمبلی اس ضمن میں اس سال مارچ میں پہلے ہی ایک قرار داد منظور کر چکی ہے۔

کمیٹی میں عبدالقادر پٹیل، ڈاکٹر عطیہ عنایت اللہ، ساجد احمد،حمایت اللہ، لیفٹینٹ جنرل ریٹارئرڈ عبدالقادر بلوچ، انجینئر خرم دستگیر خان، نصیر بھٹہ اور مولانا عطاء الرحمن شامل ہیں۔

اسی بارے میں