پشاور: آئی سی آر سی کا سرجیکل ہسپتال بند

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں بھی بین الاقوامی امدادی تنظیم آئی سی آر سی کا سرجیکل ہسپتال بند کر دیا گیا ہے۔

ہسپتال کے گیٹ پر موجود سکیورٹی گارڈ اور ہسپتال انتظامیہ کے چند دوسرے افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر سے ہر قسم کی سرگرمیاں بند ہیں اور ہسپتال انتظامیہ کے زیادہ تر اہلکار اسلام آباد روانہ ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی سی آر سی نے ہسپتال کے اندر جانے پر پابندی لگا دی ہے۔

ہسپتال کے تمام دراوزے بند تھے اور باہر بھی کسی خاص قسم کی سرگرمیاں نظر نہیں آ رہی تھی۔

ہسپتال کے سامنے قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک مریض سلیمان نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ وہ کچھ عرصہ پہلے نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہوا تھا ۔

مریض کے مطابق جب انہیں ہسپتال لے جایا جا رہا تھا تو راستے میں ایمبولینس کے اہلکار نے انہیں بتایا کہ یہاں آئی سی آر سی کا ہسپتال ہے جو زخمیوں کا مفت علاج کر رہا ہے تو ان کے کہنے پر انہیں اس ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں دوائی سے لے کھانے تک کی سہولت موجود تھی اور وہ ہسپتال انتظامیہ سے بہت خوش تھے کیونکہ میرے جیسے بہت سے غریب لوگوں کا اس ہسپتال میں مفت علاج کیا جاتا تھا۔

انہوں نے آئی سی آر سی کے اہلکاروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ہسپتال کو دوبارہ کھول دیں تاکہ غریب لوگوں کا مفت اعلاج ہو سکے۔

آئی سی آر سی کا یہ سرجیکل ہسپتال ہتھیاروں سے لگے تمام طرز کے زخمیوں کا علاج کرنے میں شہرت کا حامل تھا اور یہ پشاور کے علاقے ٹاؤن میں سنہ دو ہزار نو میں کھولا گیا تھا۔

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق کوئٹہ میں آئی سی آر سی کے کارکن کی ہلاکت کے بعد اس ہسپتال کو بھی پیر سے مریضوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

آئی سی آر سی کے اہلکاروں کے مطابق یہ ہسپتال پہلی بار افغان جنگ کے متاثرین کے علاج کے لیے سنہ اسی کی دہائی میں کھولا گیا تھا۔جس میں ہتھیاروں سے زخمیوں ہونے والے مریضوں کا علاج کیا جاتا تھا۔

اس کے بعد ایک بار پھر خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں بم دھماکوں میں تیزی آنے کے بعد یہ ہسپتال دوبارہ کھولا کیاگیا جو ہتھیاروں سے زخمی ہونے والے مریضوں کو معیاری علاج اور طبی نگہداشت فراہم کرتا تھا۔

اہلکار کے مطابق کوئٹہ میں ڈاکٹر خلیل کی ہلاکت کے بعد آئی سی آر سی نے اپنے عملے کی حفاظت کی خاطر اس ہسپتال کو بند کر دیا۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر خلیل ڈیل کو اس سال پانچ جنوری کو کوئٹہ سے نامعلوم افراد نے اغواء کیا تھا بعد میں طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ان کی بازیابی کے لیے دس کروڑ روپے تاوان طلب کیا تھا۔

پولیس کو چار ماہ قبل اغواء کیے جانے والے بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس کے اہلکار کی لاش گزشتہ ماہ کوئٹہ سے ملی تھی۔

خلیل ڈیل کے اغواء کے بعد آئی سی آر سی نے بلوچستان میں جاری صحت کے مختلف منصوبوں پر کام بند کر دیا تھا جبکہ دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اپنی سرگرمیاں کم کر دی تھیں۔

اسی بارے میں