’انسداد منشیات ڈویژن کے سربراہ کو نوٹس‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سپریم کورٹ نے کیمیکل کوٹہ کیس کی تحقیقات پر اثرانداز ہونے سے متعلق انسداد منشیات ڈویژن کے سربراہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس مقدمے میں وزیر اعظم کے صاحبزادے اور قومی اسمبلی کے رکن علی موسیٰ گیلانی کی طرف سے اس مقدمے کی تفتیش تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔

اینٹی نارکاٹکس فورس نے اس مقدمے کی تحقیقات میں علی موسی گیلانی کو بھی شامل تفتیش کیا ہے۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم کے صاحبزادے نےگزشتہ روز پیر کو سپریم کورٹ میں درخواست دی تھی کہ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہے اور موجودہ تفتیشی ٹیم کے ہوتے ہوئے اُنہیں شفاف تحقیقات کی اُمید نہیں ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ادویات سازی میں استعمال ہونے والے ایفیڈرین کیمیکل کوٹے کے مقدمے کی سماعت کی تو اس مقدمے کے تفتیشی بریگیڈئیر فہیم نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے کی تحققیات کرنے والی ٹیم پر ایف آئی اے یعنی وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اہلکاروں کی طرف سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری خوشنود اختر لاشاری کو اس مقدمے کی تفتیش میں کلیئر کر دیا جائے۔

اس کے علاوہ سیکرٹری انسداد منشیات ڈویژن بھی تحققیات پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کو اُن افراد کے نام بتائے جائیں جو کہ تفتیشی ٹیم پر دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ اُن کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں ایفیڈرین کے مقدمے میں دو کمپنیوں کو ساڑھے نو ہزار کلوگرام ایفیڈرین کا کوٹہ دیا گیا جنہوں نے جعلی دستاویزات بنا کر اسے بیرون ملک برآمد کر دیا۔

تفتیشی افسر کے وکیل اکرم شیح کا کہنا تھا کہ صرف تبادلے رکوانے کی حد تک سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد ہوا ہے جبکہ اس کے علاوہ ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

اُنہوں نے کہا کہ اس طرح اس مقدمے کے دو اہم ملزمان بیرون ملک فرار ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیر اعظم کے صاحبزادے نےسپریم کورٹ میں درخواست دی تھی کہ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہے اور موجودہ تفتیشی ٹیم کے ہوتے ہوئے اُنہیں شفاف تحقیقات کی اُمید نہیں ہے

اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری خوشنود اختر لاشاری اس مقدمے کی تفتیش میں جزوی تعاون کر رہے ہیں اور اس ضمن میں اُنہوں نے ابھی تک وزیر اعظم ہاؤس کا وہ ریکارڈ بھی پیش نہیں کیا جس میں اُن کے موکل بریگیڈئیر فہیم کو وزیر اعظم ہاؤس میں طلب کر کے اُنہیں اس مقدمے کو ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔

اکرم شیخ کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کے اہلکار بھی اس معاملے کو ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی تحقیقات تو اینٹی نارکاٹکس فورس یعنی انسدادِ منشیات فورس کر رہی ہے تو پھر اس مقدمے کی تفتیش میں ایف آئی اے اور انسداد منشیات کے سیکرٹری ظفر عباس لک کیوں اثر انداز ہو رہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اس اہم معاملے کو پاکستان پیپلز پارٹی کے وزیر مخدوم شہاب الدین نے پہلی مرتبہ پارلیمنٹ میں اُٹھایا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ملک کی بڑی بدنامی ہوئی ہے اور ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔

عدالت نے بریگیڈئیر فہیم کو تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا اور کہا کہ کسی کو غیر ضروری طور پر بدنام نہیں کیا جانا چاہیے۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت تین ہفتوں تک کے لیے ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں