ڈاکٹر خلیل چشتی پاکستان پہنچ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایئرپورٹ پہنچنے پر انہوں نے میڈیا سے بات چیت کی اور کہا کہ وہ پاکستان پہنچ کر اچھا محسوس کر رہے ہیں۔

بھارت کی سپریم کورٹ کی جانب سے عارضی طور پر پاکستان جانے کی اجازت دیے جانے کے بعد معمر پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر خلیل چشتی تقریباً دو دہائیوں کے بعد پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک، وفاقی وزیر بابر غوری اور دیگر حکام نے اسلام آباد کے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈاکٹر خلیل چشتی کا استقبال کیا جبکہ وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور عماد ملک ان کو دلی سے لینے گئے تھے۔

اس موقعے پر حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے کارکن بھی وہاں موجود تھے اور انہوں نے ڈاکٹر خلیل چشتی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور بعد میں ان کی وطن واپسی پر صدر آصف علی زرداری کے حق میں نعرے لگائے۔

بی بی سی کے نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق صدر آصف علی زرداری کی خصوصی ہدایت پر منگل کو ڈاکٹر خلیل چشتی کو دلی سے لینے کےلیے خصوصی طیارہ بھیجا گیا تھا۔

ایئرپورٹ پہنچنے پر انہوں نے میڈیا سے بات چیت کی اور کہا کہ وہ پاکستان پہنچ کر اچھا محسوس کر رہے ہیں اور انہوں نے رہائی کےلیے صدر آصف علی زرداری کا شکریہ ادا کیا۔

رحمان ملک نے ایئرپورٹ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئِے ڈاکٹر خلیل چشتی کو پاکستان آنے کی اجازت دیے جانے پر بھارتی سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔

انہوں نے کہا ’ڈاکٹر خلیل چشتی کا پاکستان آنا بہت خوش آئین بات ہے تو میں یہ سجھمتا ہوں کہ ایسی جو چیزیں ہورہی ہیں، پہلے اس طرح کی چیزیں نہیں ہوتی تھی۔ اب دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا لیول بہت اچھا ہے۔‘

یاد رہے کہ بھارت کی سپریم کورٹ کی جانب سے عارضی طور پر پاکستان جانے کی اجازت دیے جانے کے بعد مقدمۂ قتل میں ضمانت پر رہائی پانے والے معمر پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر خلیل چشتی کو پیر کے روز ان کا پاسپورٹ واپس کر دیا گیا تھا۔

ڈاکٹر خلیل نے اجمیر میں مقامی عدالت میں پاسپورٹ کے حصول کی درخواست دائر کی تھی جس پر پیر کو عدالت نے تقریباً دو دہائیوں کے بعد خلیل چشتی کو ان کا پاکستانی پاسپورٹ واپس کر دیا تھا۔

اسی بارے میں