نیٹو سپلائی: ’بحالی‘ کے خلاف احتجاج کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دفاع پاکستان کونسل نے حکومت کی جانب سے ممکنہ طور پر نیٹو سپلائی کھولنے کے خلاف پرزور احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

کونسل کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ہر شہر اور گاؤں سے لوگ سڑکوں پر آ کر نیٹو کنٹینرز کا راستہ روکیں گے۔

دفاع پاکستان کونسل نے اس سلسلے میں حزبِ مخالف کی سیاسی جماعتوں سے رابطے کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

دفاع پاکستان کونسل کی سٹیرنگ کمیٹی کے چئیرمین اور جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں نیٹوسپلائی کھولنے کے خلاف لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

منگل کو جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپلائی کی بحالی کے باوجود امریکہ کو افغانستان میں ایک شرمناک شکست کا سامنا ہے۔

لیاقت بلوچ نے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان سے باتکرتے ہوئے کہا کہ ان کے کارکن نیٹو سپلائی روٹس پر دھرنے دینے کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کا گھیراؤ کر کے حکمرانوں کو ان فیصلوں سے روکیں گے۔

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری نے نیٹو سپلائی کی ممکنہ بحالی کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکمران صبر اور ہمت کا مظاہرہ کرتے تو امریکہ ڈرون حملے روکنے سمیت تمام مطالبات مان جاتا۔

انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان کی مدد سے نیٹو کو افغانستان سے اپنے فوجیوں نکالنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

انہوں نے حکومتی پالیسیوں کی شدت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صدر زرداری کی موجودگی میں ملک میں شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔

پاکستان نے نومبر سنہ دو ہزار گیارہ میں سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو حملے میں چوبیس فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے نیٹوسپلائی بند کر رکھی ہے۔

پاکستان میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے مطالبہ کیا تھا کہ نیٹو سپلائی بند رکھی جائے لیکن بعد میں چند پارلیمانی سیاسی جماعتوں نے فیصلے کا اختیار کابینہ کے حوالے کردیا تھا۔

دفاع کونسل میں شریک بیشتر جماعتوں کا پارلیمان میں کوئی وجود نہیں ہے البتہ دفاع پاکستان کونسل کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ وہ مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بھی رابطہ کریں گے اور انہیں ملک گیر احتجاج میں شامل ہونے کی دعوت دیں گے۔

اسی بارے میں