نیٹو کو رسدکی فراہمی، ایک پرخطر کاروبار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں کئی تنظیمیں نے نیٹو کو رسد کی بحالی کی مخالفت کی ہے۔ اس حوالے سے پچھلے دنوں امریکہ مخالف جذبات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

چالیس سالہ انور خان روزانہ کراچی کے علاقے شیریں جناح کالونی میں واقع آئل ٹینکرز کے اڈے پر روزگار کے لیے آتے ہیں مگر سارا دن در بدر ہونے کے باوجود انہیں کوئی روزگار دینے کےلیے تیار نہیں ہے۔

لیکن دو سال پہلے ایسا نہ تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ وہ کراچی سے نیٹو کا آیل ٹینکر لیکر بگرام جا رہا تھے کہ افغانستان میں کابل کے قریب پہاڑ سے ان پر فائرنگ کی گئی جس میں ان کی ٹانگ پر گولی لگی۔

انور کچھ روز افغانستان میں زیر علاج رہے اور اس کے بعد پشاور آگئے جہاں سے انہیں کراچی لایا گیا۔ انہوں نے پندرہ ہزار اپنی جیب سے علاج پر خرچہ کیا مگر ٹانگ ابھی تک صحیح نہیں ہوسکی ہے۔ اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ اب وہ ٹھیکیداروں کی نظر میں ناکارہ ہیں۔

اس پورے علاج میں ان کی ٹھیکیدار نے کوئی مدد نہیں کی۔ تین بچوں کے والد انور خان اتفاق کرتے ہیں کہ اگر وہ نیٹو کے اس کام میں نہیں ہوتے تو وہ معذور نہیں بنتے۔

پاکستان کی بندرگاہوں سے افغانستان میں موجود اتحادی افواج کو تیل اور دیگر سامان کی رسد فراہم کی جاتی ہے جو سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد تاحال معطل ہے۔

بعض گروہوں کی جانب سے نیٹو ٹینکروں اور کنٹینروں پر حملے بھی کیے گئے۔ ایسے ہی ایک حملے میں محمد باقی کا نوجوان بہتیجا کوئٹہ کے نزدیک ہلاک ہوگیا۔ جو ٹینکر کا پنکچر ٹائر تبدیل کر رہے تھے کہ گولی کا نشانہ بن گئے۔

محمد باقی کا کہنا ہے کہ انہیں نہ اچھا معاوضہ ملتا ہے اور نہ ہی ٹرپ ملتا ہے ’غربت کی وجہ سے اپنا سر ہاتھ میں لیکر چلتے ہیں، ہم لوگ اتنے دلیر نہیں ہیں مگر اپنی مجبوری اور اولاد کی وجہ سے سر ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی سے یہ ٹینکر اور ٹرالر ڈرائیور تقریباً دو ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرکے سات سے آٹھ روز میں افغانستان پہنچتے ہیں۔ ڈرائیور محمد طارق بتاتے ہیں کہ دورانِ سفر عام لوگ بھی مشکلات پیدا کرتے ہیں۔

’چمن بائی پاس پر لوگ پتھراو کرتے ہیں، شیشے توڑنے کے علاوہ برا بھلا کہتے ہیں۔ جب ہم افغانستان میں داخل ہوجاتے ہیں تو پھر کچھ نہیں ہوتا۔‘

ان ڈرائیوروں کو کسی قسم کی سکیورٹی فراہم نہیں کی جاتی اور وہ اپنے طور پر یہ سفر طے کرتے ہیں۔ بعض ڈرائیور تو پولیس پر تنگ کرنے کے الزامات عائد کرتے ہیں۔

عبدالوہاب اب زیادہ دیر تک ڈرائیونگ نہیں کرسکتے۔ ان کی کمر میں درد رہتا ہے۔ وہ اپنی کمر سے بندہا ہوا بیلٹ دکھاتے ہوئے بتاتے ہیں کہ پولیس اہلکاروں نے ان پر تشدد کیا، پیسے مانگے اور نہ دینے پر مار پیٹ کی۔

نیٹو کی فراہمی معطل ہونے سے جہاں گاڑیوں کے مالکان اور ڈرائیوروں کا روزگار رک گیا وہاں اس ٹرک اڈے کے چوکیدار بھی متاثر ہوئے ہیں۔ انہیں بھی گزشتہ کئی ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔

پاکستان میں کئی تنظیمیں نے نیٹو کو رسد کی بحالی کی مخالفت کی ہے اور اس حوالے سے پچھلے دنوں امریکہ مخالف جذبات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال میں نیٹو افواج کو رسد کی فراہمی پہلے سے بھی زیادہ مشکل اور پر خطر کاروبار ہوگا۔

اسی بارے میں