سٹیل مل: رحمان ملک کو توہینِ عدالت کا نوٹس

Image caption توہین عدالت کے نوٹس کی سماعت دو ہفتے بعد ہوگی۔

سپریم کورٹ نے سٹیل مل کرپشن کیس میں عدالتی فیصلے سے انحراف کرنے پر وزیرِ داخلہ رحمان ملک کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

رحمان ملک کو یہ نوٹس عدالت کی طرف سے سٹیل ملز کرپشن کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی ٹیم کو تبدیل کرکے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے پر دیا گیا ہے۔

سابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے طارق کھوسہ کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم کرپشن مقدمے کی تحقیقات کر رہی تھی جسے رحمان ملک نے تبدیل کر دیا تھا۔

رحمان ملک حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے تیسرے رہنما میں جنہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا۔اس سے پہلے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق وزیر قانون بابر اعوان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جا چکا ہے۔

وزیر داخلہ کو جاری کیے گئے توہین عدالت کے نوٹس کی سماعت دو ہفتے بعد ہوگی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے پاکستان سٹیل مل میں کرپشن اور بدعنوانی پر لیے گئے از خود نوٹس کا فیصلہ سناتے ہوئے یہ مقدمہ ایف آئی اے سے لے کر قومی احتساب بیورو کو سونپنے کا حکم بھی دیا ہے۔ عدالت نے نیب یعنی قومی احتساب بیورو کو اس مقدمے کی تحقیقات تین ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

بدھ کو فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے ایف آئی اے کی جانب سے اب تک کی گئی تحقیقات پر عدم اطمینان ظاہر کیا۔

عدالت نے اس مقدمے میں نامزد ملزمان کی ضمانتیں مناسب فورم سے مسترد کروا کر اُنہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس مقدمے کے اہم ملزم ریاض لال جی کے بارے میں ایف آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں۔ حکام کے بقول مذکورہ ملزم صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔

عدالت نے نیب کو اس مقدمے کی تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق ہر پندرہ روز کے بعد سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت نے ایف آئی اے کی جانب سے اب تک کی گئی تحقیقات پر عدم اطمینان ظاہر کیا

اس از خود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ عدالتی فیصلے میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو تحقیقات کا تمام ریکارڈ نیب کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے سنہ دو ہزار نو میں پاکستان سٹیل ملز میں بائیس ارب روپے کی بدعنوانی سے متعلق از خود نوٹس لے کر سابق ڈی جی ایف آئی اے طارق کھوسہ کو اس مقدمے کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ ٹیم اربوں روپے کی بدعنوانی کو منظرِعام پر لائی تھی اور سٹیل ملز میں ہونے والی بدعنوانی منظر عام پر آنے کے بعد وزیر اعظم نے سٹیل ملز کے سابق چیئرمین معین آفتاب کو برطرف کردیا تھا اور اُنہیں اس ضمن میں کی جانے والی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران سنہ دوہزار آٹھ اور دو ہزار نو کی فارنزک آڈٹ رپورٹ میں عدالت میں جمع کروائی گئی جس میں بیس ارب سے زائد کی بدعنوانی اور کاروباری نقصانات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔

چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ پاکستان سٹیل ملز کو پہلے نجکاری سے بچایا جبکہ اب کرپشن اس ادارے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عدالت نے بدعنوانی کی نشاندہی کر دی ہے اور اب ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرکے اُن سے رقم نکلوانا نیب کی ذمہ داری ہے۔

یاد رہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری کی گئی تھی جس پر سپریم کورٹ نے از خودنوٹس لیتے ہوئے اس کی نجکاری روک دی تھی۔ پرویز مشرف اور موجودہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے درمیان اختلافات کی بڑی وجوہات میں سٹیل ملز کی نجکاری کو روکنا بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں