سفارتخانوں کو دھمکی آمیز خطوط موصول

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسلام آباد میں سفارتخانوں کو دھمکیوں کے پیشِ نظر ان کے گرد و نواح میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے جاتے ہیں۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں موجود تین غیر ملکی سفارت خانوں کو مبینہ طور پر آتشگیر مادے میں لپٹے ہوئے تین دھمکی آمیز خطوط وصول ہوئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے راستے افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے لیے سپلائی لائن کی بحالی کی صورت میں اُنہیں نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

جن سفارت خانوں کو یہ مبینہ آتش گیر مادے میں لپٹے ہوئے خطوط ملے ہیں اُن میں برطانوی ہائی کمیشن کے علاوہ آسٹریلیا اور فرانس کے سفارت خانے شامل ہیں۔

ان تینوں ممالک کی افواج افغانستان میں موجود ہیں اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروفِ عمل ہیں۔

ایس پی سٹی کیپٹن ریٹائرڈ محمد الیاس نے بی بی سی کو بتایا کہ متعلقہ سفارت خانوں کے حکام نے پولیس کو اطلاع دی اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر یہ مشکوک خطوط قبضے میں لے لیے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ان خطوط میں پانچ گرام سے بھی کم پاوڈر تھا تاہم پولیس افسر کا کہنا تھا کہ اس پاؤڈر کو ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری میں بھجوا دیا گیا ہے اور اس کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا کہ یہ آتش گیر مادہ تھا یا پھر عام پاؤڈر۔

مقامی پولیس کے مطابق یہ پاؤڈر بظاہر سُرمے کی طرح کا دکھائی دیتا ہے۔ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف اس واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

یہ تینوں سفارت خانے اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع ہیں۔ وزارتِ داخلہ نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اس بات کی تفتیش جاری ہے کہ اتنے سیکورٹی اقدامات کے باوجود مبینہ طور پر آتش گیر مادے میں لپٹے ہوئے یہ دھمکی آمیز خطوط سفارت خانوں تک کیسے پہنچے۔

پولیس ذرائع کے مطابق یہ خطوط ایک نجی کوریئر کمپنی کے ذریعے بھجوائے گئے ہیں۔ مقامی پولیس نے مذکورہ کمپنی کے دفتر جاکر وہاں کے عملے سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔

اسلام آباد کی مقامی انتظامیہ اور پولیس حکام نے مذکورہ سفارت خانوں میں کام کرنے والے غیر ملکی سٹاف کو ہدایت کی ہے کہ وہ شہر میں اپنی نقل وحرکت سے متعلق پولیس کو پیشگی اطلاع دیں۔

اسی بارے میں