رقوم کی تقسیم کا مقدمہ،گورنر سٹیٹ بینک کی طلبی

Image caption سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق سپریم کورٹ میں فضائیہ کے سابق سربراہ ائیرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت جاری ہے۔

سپریم کورٹ نے نوے کی دہائی میں خفیہ ادارے آئی ایس آئی یعنی انٹر سروسز انٹیلیجنس کی طرف سے مبینہ طور پر سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم کے معاملے پر گورنر سٹیٹ بینک کو معاونت کے لیے طلب کرلیا ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو آئی ایس آئی کے پولیٹیکل ونگ سے متعلق نوٹیفکیشن پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

عدالت نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کی طرف سے سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق ان کمیرہ بریفنگ دینے کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے اسد درانی سے کہا کہ وہ جو کچھ بھی کہنا چاہتے ہیں وہ اٹارنی جنرل کو بتا دیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مبینہ طور پر سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق پاکستان فضائیہ کے سابق سربراہ ائیرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کی درخواست کی سماعت کی۔

عدالت نے اس ضمن میں مہران بینک اور حبیب بینک سے رقوم کی ادائیگی کے حوالے سے جو کمیشن بنائے گئے تھے اُن کی رپورٹ سے متعلق اٹارنی جنرل عرفان قادر سے دریافت کیا۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ مہران بینک سے متعلق پیش کردہ کمیشن کی رپورٹ کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

عدالت نے اس ضمن میں سیکرٹری قانون یاسمین عباسی کو بھی طلب کیا جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ سنہ اُنیس سو ستانوے میں حبیب بینک کمیشن کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی تھی لیکن اس کی حمتی رپورٹ دستیاب نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کمیشن کی عبوری رپورٹ میں حقائق موجود نہیں ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ جب تک کوئی حتمی رپورٹ عدالت میں پیش نہیں کی جاتی اُس وقت تک عدالت کا اس درخواست کی سماعت کو حتمی نتیجے پر پہنچانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس درخواست سے متعلق سابق آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل کی طرف سے جمع کروائے گئے بیان حلفی میں ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے گئے ہیں لیکن سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم سے انکار نہیں کیا گیا۔

اُنہوں نے وزارت دفاع سے فوج اور آئی ایس آئی اور ایم آئی کی پیروی کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے اس کیس میں معاونت کے لیے سٹیٹ بینک کے گورنر کو طلب کرلیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ وہ دیکھیں کہ حبیب بینک کمیشن کا کوئی ریکارڈ موجود ہے۔

سماعت کے دوران جب عدالت نے اٹارنی جنرل کو کہا کہ وہ ایسے معاملے میں عدالت کی معاونت کریں تو اُنہوں نے تجویز دی کہ جن سیاست دانوں نے یہ رقوم لی ہیں اُنہیں نوٹس جاری کیے جائیں اور اس کے جواب میں بہت سے حقائق سامنے آجائیں گے تاہم عدالت نے اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ عدالت نے اس درخواست کی سماعت چار جون تک کے لیے ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ مہران بینک کے سابق صدر یونس حبیب کے مطابق نوے کی دہائی میں چودہ کروڑ روپے مبینہ طور پراسلامی جمہوری اتحاد میں شامل مختلف سیاستدانوں میں تقسیم کیے گئے جبکہ سندھ کے سابق وزیراعلیٰ جام صادق کو مہران بینک کے لائسنس کے اجراء کے لیے الگ سے پندرہ کروڑ روپے دیےگئے

یونس حبیب کے مطابق پینتیس لاکھ روپے میاں نواز شریف کو پچیس لاکھ روپے میاں شہباز شریف کو دیے گئے جبکہ سابق وزیر اعلی صوبہ خیبر پختون خوا مرحوم میر افضل خان کو ایک کروڑ روپے، سابق نگران وزیر اعظم مرحوم غلام مصطفی جتوئی کو پچاس لاکھ روپے، سابق وزیر اعظم مرحوم محمد خان جونیجو کو پچیس لاکھ روپے، پاکستان مسلم لیگ فنگشنل گروپ کے صدر پیر پگارا کو بیس لاکھ روپے، عبدالحفیظ پیر زادہ کو تیس لاکھ روپے،عابدہ حیسن کو دس لاکھ روپے، ہمایوں مری کو چون لاکھ روپے، جماعت اسلامی کو پچاس لاکھ روپے، لیاقت بلوچ کو پندرہ لاکھ روپے ، جاوید ہاشمی اور دیگر افراد کو پانچ کروڑ روپے، سابق وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی کو چالیس لاکھ روپے، سابق وزیر اعلی بلوچستان جام یوسف کو سات لاکھ پچاس ہزار روپے جبکہ نادر مگسی کو دس لاکھ روپے ادا کیے گئے۔ اس کے علاوہ میر حاصل بزنجو کو بھی پانچ لاکھ روپے ادا کیے گئے۔

اسی بارے میں