سندھ: بلدیاتی انتخابات، اختلافات برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مشرف دور میں متعارف کروائے جانے والے شہری نظام کے تحت کراچی میں جماعتِ اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ کے ناظم رہے ہیں

صوبہ سندھ کی سیاسی جماعتوں کے درمیان بلدیاتی نظام کی نوعیت پراختلافِ رائے پایا جاتا ہے کیونکہ کچھ جماعتیں دو ہزار ایک میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف دور میں متعارف کروائے جانے والے شہری حکومت کے نظام کی حامی ہیں جبکہ کچھ کو اس پر شدید اعتراضات ہیں۔

عدالتِ عالیہ کے فیصلے کے بعد سب سے بڑا ابہام یہ ہے کہ نوے روز بعد کونسے نظام کے تحت انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔

سندھ حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ اور جماعتِ اسلامی سنہ دو ہزار ایک میں اس کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور میں متعارف کروائے گئے شہری حکومتوں کے نظام کی حامی ہیں،

عوامی نیشنل پارٹی انیس سو اناسی کے بلدیاتی نظام کی حامی ہے جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی ضلعی حکومت کا نظام لانےکےحق میں ہے۔

پیپلزپارٹی کے صوبائی سکریٹری جنرل تاج حیدر کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت سمجھتی ہے کہ دو ہزار ایک میں متعارف ہونے والا ضلعی حکومتوں کا نظام آئین سے متصادم ہے چنانچہ اس کی جگہ ایک نیا مسودہِ قانون لانے کی ضرورت ہے اور وہ ضلعی حکومت کا ہونا چاہیے، میونسیپیلٹی کا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پرانے نطام میں ایک رکن کا حلقہ نہیں ہے نہ ہی پارلیمانی نظام کا تصور ہے اور اس میں بالواسطہ منتخب افراد کو تمام مالی اور انتظامی اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔

تاج حیدر نے کہا کہ نیا قانون بنانے کے لیے وقت چاہیے ہوتا ہےاور ابھی تو انتخابی فہرستوں پر بھی بہت سےاعتراضات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان وجوہات کی بنا پر عدالت کو اس بارے میں بھی رہنمائی کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نےکہا کہ ان کی جماعت بہرحال انتخابات کے لیے تیار ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما رضا ہارون نے کہا کہ ان کی جماعت کافی عرصے سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بحث میں نہیں الجھنا چاہیے کہ نظام دو ہزار ایک کا ہوگا یا انیس سو اناسی کا کیونکہ ہر کسی کو آگے دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا گزشتہ نظام میں کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں اور لوگوں کو سہولتیں ان کے گھروں کی دہلیز پر ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ہے کہ پرانے نظاموں کی اچھائیاں شامل کر کے کوئی نیا نظام متعارف کرا دیا جائے۔

ان کے مطابق گزشتہ نظام کو صرف اس لیےمسترد نہیں کرنا چاہیے کہ اسے ایک فوجی آمر نے متعارف کروایا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امن و امان کی صورتِ حال کا بہانہ مناسب نہیں کیونکہ اگر قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ضمنی انتخابات ہو سکتے ہیں تو بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں!

جماعتِ اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتخابات کے لیے تیار ہیں تاہم انہیں یہ نہیں معلوم کہ نظام کونسا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت شہری حکومت کے نظام کی حامی ہے کیونکہ اس نظام میں عوامی نمائندوں کو افسر شاہی پر اختیارات حاصل تھے۔

محمد حسین محنتی نے کہا کہ عدالت نے انتخابات کروانے کا حکم تو دے دیا ہے تاہم اسے انتخابات کو شفاف بنانے کا بھی کہنا چاہیے کیونکہ کراچی سے ہمیشہ دھاندلی کی شکایات ملی ہیں۔ یاد رہے کہ جماعتِ اسلامی سندھ اسمبلی میں ایک بھی نشست نہیں رکھتی۔

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ پہلے کراچی کے حالات درست کرنے کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ان حالات میں انتخابات ہوئے تو خون خرابہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کراچی کےحالات پر نوٹس لیا تھا مگر تب بھی کچھ نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نظام میں صوبائی اختیارات کو برقرار رکھنےکی ضرورت ہے کیونکہ مشرف کے نظام میں تو صوبائی حکومت کو شہری حکومت کے اکاؤنٹس کا حساب کتاب کرنے کا اختیار بھی نہیں تھا۔

شاہی سید کے مطابق کراچی کی حلقہ بندیاں درست کرنے کے ساتھ ساتھ ضروری ہے انتخابات نادرا کی فہرستوں کے ذریعے جدید انداز سے ہوں۔

ان کا مطالبہ ہے کہ جو چیزیں گزشتہ نظام میں اچھی ہیں انہیں شامل کر کے انیس سو اناسی کے بلدیاتی نظام کے تحت انتخابات کروائے جائیں۔

مشرف دور میں متعارف کروائے جانے والے شہری نظام کے تحت کراچی میں جماعتِ اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ کے ناظم رہے ہیں۔ یہ دونوں جماعتیں اس نظام کی حامی ہیں تاہم پیپلزپارٹی اور عوام نیشنل پارٹی اس نظام کی حمایت نہیں کرتے۔

اسی بارے میں