پشاور میں تین لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پشاور اور اس کے نواحی علاقوں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور کے مضافات میں دو الگ الگ مقامات سے تین لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ان لاشوں میں سے دو کا تعلق صوبہ پنجاب سے بتایا گیا ہے ۔ یہ لاشیں بوری میں بند کر کے پھینکی گئی تھیں۔

پولیس کے مطابق یہ لاشیں قبائلی علاقے مہمند ایجنسی کی سرحد کے قریب ورسک روڈ پر ملی ہیں۔ متھرا پولیس کے مطابق دونوں لاشوں کی شناخت ہو گئی ہیں جن میں سے ایک عبدالقیوم کا تعلق ملتان روڈ لاہور سے اور دوسرے فیض محمد کا تعلق ضلع وہاڑی سے بتایا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں کی عمریں چوبیس اور ستائیس سال کے درمیان ہیں اور ان کے جسم پر کسی قسم کے زخم یا ضرب کے نشان نہیں پائے گئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دونوں افراد کو کیسے اور کیوں ہلاک کیا گیا ہے۔

متھرا تھانے کے انسپکٹر اکرام اللہ کا کہنا ہے کہ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے خیبر میڈیکل کالج بھیج دیا گیا ہے جس کے بعد معلوم ہوگا کہ انھیں کیسے ہلاک کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے دونوں افراد کی جیبوں سے شناختی کارڈ ملے ہیں جن پر درج پتہ سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ ادھر پشاور کے ایک اور مضافاتی علاقے ریگی میں نہر سے ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی ہے جس کی اب تک شناخت نہیں ہو سکی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لاش مسخ شدہ ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کافی دنوں تک لاش پانی میں ہی رہی ہے۔

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں فوجی آپریشن کے بعد سے پشاور اور اس کے مضافات میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ پولیس کی گاڑیوں پر حملوں کے علاوہ رہائشی علاقے پر راکٹ باری کے واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔ گزشتہ روز حیات آباد میں پولیس کی چوکی کے قریب دھماکے سے دو اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

خیبر پختونخواہ کی حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے ایک طرف غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افغان پناہ گزینوں کو پچیس مئی تک اپنے وطن واپس جانے کا حکم دیا ہے اور دوسری جانب پشاور شہر میں باہر سے آ کر رہنے والے افراد کو حکم دیا ہے کہ وہ پولیس تھانے میں اندراج کروائیں۔ اگرچہ یہ حکم پہلے بھی دیا جا چکا ہے تاہم تشدد کے واقعات میں کمی کی بجائے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں